الہٰ آباد ہائی کورٹ کا نجی مقامات پر عبادت کی اجازت کا فیصلہ تاریخی و انتہائی اہم، اقلیتی تنظیموں کا خیرمقدم، پولیس کی من مانی پر تشویش

حیدرآباد (دکن فائلز) الہٰ آباد ہائی کورٹ کے ایک اہم فیصلہ میں نجی املاک پر مذہبی عبادات کے انعقاد کو آئینی حق قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ اس کے لیے انتظامیہ یا پولیس سے اجازت لینا ضروری نہیں۔ مسلم مرر کی رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کا اقلیتی تنظیموں، سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے زبردست خیرمقدم کیا ہے اور اسے مذہبی آزادی کے تحفظ کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا ہے۔

جسٹس اتل شری دھرن اور جسٹس سدھارتھ نندن پر مشتمل ڈویژن بنچ نے مارنارہ فل گاسپل چیریٹیبل ٹرسٹ اور ایمانوئل گریس چیریٹیبل ٹرسٹ کی جانب سے دائر دو درخواستوں پر سماعت کے دوران کہا کہ قانون کسی فرد یا گروہ کو نجی جائیداد پر دعائیہ اجتماع منعقد کرنے سے نہیں روکتا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح الفاظ میں کہا:
“نجی املاک پر مذہبی دعائیہ اجتماع منعقد کرنے کے لیے کسی قسم کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔”

عدالتی فیصلہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے کہا کہ یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل 25 میں دی گئی مذہبی آزادی کی غیر مبہم توثیق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں متعدد مقامات پر پرامن عبادات کے دوران پولیس کارروائیاں کی گئیں، ایف آئی آر درج ہوئیں اور گرفتاریاں عمل میں آئیں جس سے عوام میں خوف و بے یقینی پیدا ہوئی۔

مولانا مدنی نے کہاکہ “پرامن عبادات کو قانون و نظم کے مسائل قرار دے کر روکا گیا، لیکن ہائی کورٹ کے فیصلے نے بالآخر آئینی ضمانت فراہم کر دی ہے۔”

انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ رمضان المبارک کے پیش نظر امن و انصاف کو یقینی بنایا جائے اور پولیس مذہبی معاملات میں مداخلت سے باز رہے تاکہ تمام شہری بلا خوف و خطر اپنی عبادات انجام دے سکیں۔

آل انڈیا کرسچن کونسل کے رہنما اور انسانی حقوق کے کارکن جان دیال نے بھی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا،
“یہ فیصلہ حکومت کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ اپنے گھروں میں عبادت کے لیے اجازت مانگنا ہی کیوں پڑے؟ عدالت کو مداخلت کرنی پڑی، یہ ہمارے حالات پر ایک سوالیہ نشان ہے۔”

واضح رہے کہ جنوری میں مرادآباد میں نجی مکان میں نماز ادا کرنے پر 11 مسلم افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جس پر ملک گیر سطح پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں