حیدرآباد (دکن فائلز) مسلم مرر کی ایک رپورٹ کے مطابق اتر پردیش کے ضلع متھرا میں ایک سرکاری پرائمری اسکول کے مسلم ہیڈ ماسٹر جناب جان محمد کو جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کے تحت معطل کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے، تاہم سرکاری تحقیقات کے بعد تمام الزامات غلط ثابت ہونے پر ان کی معطلی منسوخ کر دی گئی ہے۔
جناب جان محمد، جو سال 2007 سے اسکول میں خدمات انجام دے رہے ہیں، کو 31 جنوری کو مقامی بی جے پی لیڈر درگیش پردھان کی شکایت پر فوری طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔ ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ طلبہ کو زبردستی نماز پڑھواتے ہیں، اسلامی تعلیمات مسلط کرتے ہیں، قومی ترانہ رکوا دیا گیا اور ہندو مذہب کی توہین کی گئی۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ معطلی کا فیصلہ کسی ابتدائی جانچ کے بغیر کیا گیا۔ بعد ازاں جب تحقیقات ہوئیں تو اسکول کے اساتذہ، انتظامیہ اور طلبا کے بیانات لیے گئے۔ اسکول میں 235 طلبا زیر تعلیم ہیں جن میں سے صرف 89 مسلمان ہیں، جبکہ جان محمد تدریسی عملے کے واحد مسلم رکن ہیں۔
تمام ہندو اساتذہ نے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں “مکمل طور پر غلط” قرار دیا۔ ایک استاد نے کہا، “اسکول میں کسی قسم کی زبردستی عبادت نہیں ہوتی، قومی ترانہ روزانہ گایا جاتا ہے۔”
تحقیقات کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج کا بھی جائزہ لیا گیا جس سے الزامات کی تردید ہوئی۔ کسی بھی ہندو طالب علم نے شکایت کی تصدیق نہیں کی۔
اس کے باوجود، سوشل میڈیا پر ہندوتوا شدت پسندوں سے وابستہ متعدد اکاؤنٹس نے جان محمد اور مجموعی طور پر مسلم برادری کے خلاف مہم چلائی۔ ہندوتوا نظریہ سے وابستہ میڈیا پلیٹ فارم اوپ انڈیا نے بغیر تصدیق الزامات کو حقیقت کے طور پر پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہیڈ ماسٹر “ذہن سازی” اور “جبری تبدیلی مذہب” میں ملوث تھے۔
حقوقِ انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح غیر مصدقہ اور سیاسی محرکات پر مبنی الزامات اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف فوری سرکاری کارروائی کا سبب بن جاتے ہیں۔
حقوق تنظیموں نے زور دیا ہے کہ آزادیٔ صحافت کے ساتھ ساتھ اخلاقی صحافتی معیار کو بھی نافذ کیا جانا چاہیے تاکہ میڈیا نفرت پھیلانے کا ذریعہ نہ بنے بلکہ حقائق اور انصاف کا محافظ رہے۔


