حیدرآباد (دکن فائلز) امریکہ میں ایران سے بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر اندرونِ ملک بھی سخت تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ اس تنقید میں نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکومتی حلقوں سے وابستہ بعض سیاستدان بھی شامل ہیں۔
امریکی کانگریس کی ڈیموکریٹ رکن یاسمین انصاری نے ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور اقدامات پر شدید ردعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی قیادت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ایران کے خلاف دھمکیوں، بالخصوص 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ اور بصورت دیگر ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے کی دھمکی کو خطرناک قرار دیا۔
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں یاسمین انصاری نے کہا کہ امریکی قیادت ایک ایسے “جنونی اور ظالم” شخص کے ہاتھ میں ہے جو نہ صرف اپنے ملک بلکہ پوری دنیا کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے عوام کے لیے حمایت کے دعوؤں سے لے کر پوری آبادی کے خلاف جنگی جرائم کی دھمکیوں تک، امریکی پالیسی میں تضاد اور غیر ذمہ داری واضح ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف جنگی اقدامات نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ ممکنہ طور پر غیر قانونی بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی کسی بھی جنگ کے تباہ کن اثرات ہوں گے، جن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں، خطے میں مزید عدم استحکام اور عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافہ شامل ہو سکتا ہے۔
یاسمین انصاری کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں دانشمندی اور سفارتکاری کی ضرورت ہے، نہ کہ اشتعال انگیز بیانات اور دھمکیاں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال کو سنجیدگی سے نہ سنبھالا گیا تو اس کے اثرات پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔


