حیدرآباد (دکن فائلز) اقوام متحدہ کے ادارے یو این ورکنگ گروپس آن آربیٹیری ڈیٹینشن نے طالب علم رہنما عمر خالد کی حراست کو “من مانی” قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق عمر خالد کی گرفتاری اور طویل حراست ان کے بنیادی حقوق، خصوصاً اظہارِ رائے، پرامن احتجاج اور عوامی معاملات میں شرکت کے حق کے استعمال کا نتیجہ ہے۔ انہیں 2020 میں متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانچ سال گزرنے کے باوجود مقدمہ کی باقاعدہ سماعت شروع نہیں ہو سکی، جو منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اقوام متحدہ نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف خالد کو رہا کیا جائے بلکہ انہیں مناسب معاوضہ بھی دیا جائے۔ عالمی سطح پر اس معاملہ میں بحث تیز ہوگئی ہے۔


