حیدرآباد (دکن فائلز) بنگلورو کے معروف تعلیمی ادارہ پی ای ایس یونیورسٹی میں ایک سنگین تنازع اس وقت کھڑا ہوگیا جب ایک ایڈجَنکٹ پروفیسر ڈاکٹر مرلی دھردیش پانڈے پر الزام لگا کہ انہوں نے کلاس کے دوران ایک مسلم طالب علم کے خلاف توہین آمیز اور فرقہ وارانہ ریمارکس کیے۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 24 مارچ 2026 کو پیش آیا جب طالب علم افان نے کلاس سے چند لمحوں کے لیے باہر جانے کی اجازت طلب کی۔ اس پر پروفیسر مبینہ طور پر برہم ہوگیا اور انہوں نے طالب علم کو “شرم نہیں آتی تم کو” کہتے ہوئے بار بار “دہشت گرد” قرار دیا۔ وائرل ویڈیو میں، جو ایک دوسرے طالب علم نے ریکارڈ کی، دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پروفیسر نے یہ لفظ متعدد مرتبہ دہرایا جبکہ کلاس میں تقریباً 60 طلبہ موجود تھے۔
مزید الزامات کے مطابق پروفیسر نے کہا کہ “ایران جنگ تم جیسے لوگوں کی وجہ سے ہوئی”، اور یہ بھی کہ ٹرمپ آکر تمہیں لے جائے گا، جبکہ انہوں نے طلبا کو “جہنم میں جانے والا” بھی کہا۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شدید ردعمل سامنے آیا اور یونیورسٹی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پروفیسر کو معطل کر دیا۔
یونیورسٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایک طالب علم کی شکایت موصول ہونے کے بعد مکمل تحقیقات تک پروفیسر کو معطل رکھا جائے گا۔ وائس چانسلر نے واضح کیا کہ متعلقہ پروفیسر مستقل فیکلٹی نہیں بلکہ ایڈجَنکٹ حیثیت میں کئی برسوں سے تدریسی خدمات انجام دے رہا تھا۔ انہوں نے واقعہ کو ادارے کی تاریخ میں “بدبختانہ اور حیران کن” قرار دیا اور کہا کہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اسی دوران طلبا تنظیموں نے بنگلورو پولیس میں باضابطہ شکایت درج کرواتے ہوئے سخت کارروائی اور پروفیسر سے عوامی معافی کا مطالبہ کیا۔ شکایت میں کہا گیا کہ ایک استاد کی جانب سے کسی طالب علم کو دہشت گرد قرار دینا انتہائی قابلِ مذمت اور ناقابلِ قبول ہے۔
کچھ رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ متاثرہ طالب علم کی حمایت کرنے والے چند دیگر طلبا کو بھی مختلف وجوہات کی بنا پر معطل کیا گیا، جبکہ مبینہ طور پر سی سی ٹی وی فوٹیج کے حذف کیے جانے کی بات بھی سامنے آئی ہے، تاہم یونیورسٹی نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔
ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://www.instagram.com/reel/DWakjqBiX2l/?igsh=amF2NWgzazd1N2pt
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی تعلیمی ادارے میں اس نوعیت کا واقعہ سامنے آیا ہو۔ 2022 میں منی پال انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں بھی ایک پروفیسر نے ایک مسلم طالب علم کو مبینہ طور پر اجمل قصاب سے تشبیہ دی تھی، جس پر بعد میں معذرت کی گئی تھی۔


