حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد میں اتوار کے روز امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں کے خلاف ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ اور ریلی نکالی گئی، جس میں بائیں بازو کی جماعتوں، سیکولر تنظیموں اور مختلف سماجی و دینی گروپس نے بھرپور شرکت کی۔ یہ ریلی تاریخی چارمینار سے شروع ہو کر نامپلی کے نمائش میدان تک نکالی گئی، جہاں بعد ازاں ایک بڑے عوامی جلسے کا انعقاد کیا گیا۔
اس موقع پر صدر تحریک مسلم شبان محمد مشتاق ملک، مجلس بچاؤ تحریک کے ترجمان امجد اللہ خان سمیت متعدد دینی، ملی اور سماجی تنظیموں کے قائدین اور کارکنان بھی موجود تھے۔ یہ احتجاج “تلنگانہ کمیٹی اگینسٹ وار” کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا تھا، جس میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ)، کانگریس، مجلس بچاؤ تحریک، تحریک مسلم شبان اور دیگر تنظیموں کے کارکنان، سماجی کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر جنگ کے خاتمے کے مطالبات درج تھے۔
ریلی کے دوران مظاہرین نے “روک دو، روک دو جنگ کو روک دو” اور “ون ورلڈ، ون وائس: اسٹاپ دی وار” جیسے نعرے بلند کیے۔ شرکاء نے امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایران پر حملوں کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔
ایکزِبیشن گراؤنڈس میں منعقدہ جلسے سے سی پی آئی (ایم) کے پولٹ بیورو رکن بی وی راگھولو، ریاستی سیکریٹری جان ویسلے اور سی پی آئی کے قومی سیکریٹری نارائنا سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطابات میں اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجیوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاج اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے منعقد کیا گیا ہے اور اس تنازعے کو شروع ہوئے ایک ماہ ہو چکا ہے، لیکن اس کے خاتمے کا کوئی واضح اشارہ نظر نہیں آ رہا۔ انہوں نے کہا کہ معصوم شہریوں، خصوصاً بچوں اور طالبات کی ہلاکت انسانیت پر ایک سیاہ داغ ہے۔
مقررین نے مزید کہا کہ یہ حملے اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور عالمی برادری کو فوری مداخلت کرتے ہوئے جنگ کو روکنا چاہیے۔
احتجاج کے اختتام پر مظاہرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ختم کر کے امن و استحکام کو یقینی بنائے۔


