مسلم پرسنل لا کے باوجود بچوں کی تحویل کے لیے گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ سے رجوع ممکن: الہٰ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ

حیدرآباد (دکن فائلز) الہ آباد ہائیکورٹ نے ایک فیصلے میں واضح کیا ہے کہ مسلم پرسنل لا کے تحت زندگی گزارنے والے افراد بھی نابالغ بچوں کی تحویل (کسٹڈی) کے لیے Guardians and Wards Act, 1890 کے تحت عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں اور اس پر کوئی قانونی پابندی عائد نہیں ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جسٹس انیل کمار پر مشتمل بنچ نے کہا کہ اگرچہ ذاتی قوانین (پرسنل لا) فریقین کے حقوق کے تعین میں رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں، لیکن کسی بھی مقدمے میں بنیادی اور سب سے اہم اصول بچے کی فلاح و بہبود (ویل فیئر آف دی مائنر) ہوتا ہے، جو دیگر تمام پہلوؤں پر فوقیت رکھتا ہے۔

یہ معاملہ رضوانہ نامی خاتون کی جانب سے دائر کردہ ہیبیس کارپس درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آیا، جس میں انہوں نے اپنے دو کمسن بچوں ایک 10 سالہ بیٹے اور 5 سالہ بیٹی کو عدالت میں پیش کرنے اور ان کی تحویل اپنے حوالے کرنے کی استدعا کی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مسلم پرسنل لا کے مطابق سات سال سے کم عمر لڑکے اور کمسن لڑکی کی تحویل ماں کو حاصل ہوتی ہے۔ مزید یہ بھی دلیل دی گئی کہ ایکٹ کی دفعہ 6 کے تحت مسلم فریقین پر Guardians and Wards Act, 1890 کا اطلاق نہیں ہوتا، لہٰذا ایسے معاملات صرف ہیبیس کارپس درخواست کے ذریعے ہی طے کیے جا سکتے ہیں۔

تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مذکورہ دفعہ کسی بھی طبقے کو عدالت سے رجوع کرنے سے نہیں روکتی بلکہ یہ صرف مختلف اقسام کے سرپرستوں (گارڈینز) کی نشاندہی کرتی ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ “گارڈین” کی اصطلاح میں بچوں کی تحویل کا تصور بھی شامل ہے، اس لیے مسلم پرسنل لا کے تابع ہونے کے باوجود عدالت کا دائرہ اختیار برقرار رہتا ہے۔

عدالت نے Family Courts Act, 1984 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کی دفعہ 7 کی وضاحت (کلاز gجی کے تحت فیملی کورٹس کو بچوں کی سرپرستی اور تحویل سے متعلق تنازعات سننے اور فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے، چاہے فریقین کسی بھی پرسنل لا کے تابع ہوں۔

مزید برآں، عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی تحویل کا فیصلہ محض قانونی اصولوں کی بنیاد پر میکانکی انداز میں نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے بچے کی فلاح و بہبود کا تفصیلی جائزہ ضروری ہوتا ہے۔ عدالت کے مطابق، ہیبیس کارپس کی کارروائی مختصر نوعیت کی ہوتی ہے، جس میں ایسے پیچیدہ معاملات کا مکمل جائزہ لینا ممکن نہیں۔

آخر میں عدالت نے درخواست کو نمٹا دیا اور خاتون کو ہدایت دی کہ وہ مناسب ریلیف کے لیے متعلقہ فیملی کورٹ سے رجوع کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں