حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد کے چنچلگوڑہ کی رہائشی سعیدہ بیگم کی گرفتاری اور اُن کے خلاف درج دہشت گردی سے متعلق مقدمہ ایک اہم اور حساس موڑ اختیار کر گیا ہے۔ سعیدہ بیگم کو وجے واڑہ پولیس نے کرائم نمبر 98/2026 کے تحت بھارتیہ نیائے سنہتا، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ اور آئی ٹی ایکٹ کی مختلف سخت دفعات کے تحت گرفتار کیا تھا، جس کے بعد انہیں عدالت میں پیش کر کے راجہمندری سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا۔
خاندان کے مطابق، سعیدہ بیگم کا اس مقدمے میں کوئی براہ راست کردار نہیں ہے اور انہیں محض سوشل میڈیا سرگرمیوں کی بنیاد پر غلط طور پر پھنسایا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعیدہ بیگم ایک سادہ گھریلو خاتون ہیں جو گھروں میں کام کر کے اپنے خاندان کا سہارا بنی ہوئی تھیں۔
سعیدہ بیگم کی بہن اور بہنوئی نے وجے واڑہ جا کر سینئر وکیل عبدالسلام سے ملاقات کی اور ضمانت کی درخواست کے لیے ضروری دستاویزات فراہم کیے۔ اس کے بعد وہ راجہمندری پہنچے جہاں انہیں جیل میں سعیدہ بیگم سے تقریباً 30 منٹ تک ملاقات کی اجازت دی گئی۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعیدہ بیگم کی بہن نے بتایا کہ ان کی بہن نے اپنی بے گناہی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک انسٹاگرام گروپ میں بغیر علم کے شامل کیا گیا تھا، جہاں کچھ افراد مذہبی نوعیت کے پیغامات شیئر کرتے تھے۔ جب ایک شخص نے ذاتی نوعیت کے سوالات پوچھنے شروع کیے تو سعیدہ بیگم نے اسے بلاک کر دیا اور تقریباً سات ماہ قبل سوشل میڈیا سرگرمیاں ترک کر دیں۔
خاندان کے مطابق، سعیدہ بیگم ایک بیوہ ہیں اور ایک چار سالہ بچے کی ماں ہیں۔ وہ دو گھروں میں ملازمت کر کے اپنے خاندان کی کفالت کرتی تھیں۔ ان کی والدہ صابرہ بیگم اسٹیج فور کینسر میں مبتلا ہیں جبکہ والد شیخ مولا ضعیف اور جسمانی طور پر کمزور ہیں۔ ایسے حالات میں خاندان کا سوال ہے کہ ایک مجبور خاتون، جو اپنے بیمار والدین اور کمسن بچے کی دیکھ بھال میں مصروف ہو، وہ کس طرح کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہو سکتی ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق، یہ معاملہ 22 مارچ 2026 کو وجے واڑہ کے ونچ پیٹ میں ایک کارروائی کے دوران سامنے آیا، جہاں پولیس نے مبینہ طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے چلنے والے ایک نیٹ ورک کا انکشاف کیا۔ اس مقدمے میں ملک کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے 13 افراد کو ملزم بنایا گیا ہے، جن میں سعیدہ بیگم کو A-5 کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمان سوشل میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے اور بعض ممنوعہ تنظیموں سے متاثر تھے، تاہم خاندان کا کہنا ہے کہ سعیدہ بیگم کے خلاف کوئی واضح یا ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کے مخصوص کردار کی وضاحت کی گئی ہے۔
مشکل حالات میں مجلس بچاؤ تحریک کے ترجمان امجد اللہ خان نے خاندان کی مدد کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے نہ صرف قانونی معاونت فراہم کی بلکہ خاندان کے لیے وجے واڑہ اور راجمندری کے سفر کے اخراجات میں بھی تعاون کیا۔ خاندان نے ان کے ساتھ ساتھ سینئر وکیل عبدالسلام کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے کیس سنبھالنے اور قانونی رہنمائی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ اس کیس کی منصفانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور سعیدہ بیگم کو انصاف فراہم کیا جائے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ وہ قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے اپنی بیٹی کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے اور امید رکھتے ہیں کہ عدالت میں سچ سامنے آئے گا۔


