حیدرآباد (دکن فائلز) بہار سے تعلق رکھنے والے عالم دین مولانا عبداللہ سلیم چترویدی کو اتر پردیش اسپیشل ٹاسک فورس نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کی والدہ کے خلاف مبینہ توہین آمیز بیان دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا، جس کے بعد انہیں عدالت میں پیش کر کے جیل بھیج دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں مولانا عبداللہ سلیم ایک مذہبی اجتماع کے دوران وزیراعلیٰ کی والدہ کے بارے میں مبینہ طور پر متنازعہ ریمارکس کرتے نظر آئے۔
پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف اتر پردیش کے مختلف اضلاع میں متعدد مقدمات درج کیے گئے، جن میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے، اشتعال انگیزی اور عوامی نظم میں خلل ڈالنے جیسی دفعات شامل ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق اس کے خلاف درجنوں ایف آئی آرز درج کی گئیں اور مزید تفتیش جاری ہے۔
ایس ٹی ایف نے مولانا کو بہار کے ضلع ارریہ کے علاقہ جوکی ہاٹ سے حراست میں لے کر اتر پردیش منتقل کیا، جہاں ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔ بعد ازاں انہیں عدالتی کارروائی کے بعد جیل بھیج دیا گیا۔ گرفتاری کے بعد مولانا عبداللہ سلیم نے اپنے بیان پر عوامی طور پر معافی مانگ لی اور کہا کہ اگر ان کی باتوں سے کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے تو وہ اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز اور اشتعال انگیز بیانات کے خلاف کارروائی جاری رہے گی تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔
واضح رہے کہ ہندوتوا شدت پسندوں کی جانب سے آئے دن سوشل میڈیا پر مسلمانوں اور اسلام کے خلاف نفرت انگیز و اشتعال انگیز بیانات دیئے جاتے ہیں لیکن پولیس کی جانب سے ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاتی۔


