حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے محبوب نگر میں ایک مسلم نوجوان کے ساتھ مبینہ طور پر سرعام غنڈہ گردی اور تذلیل کرنے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے قانون کی حکمرانی اور پولیس کے کردار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
متاثرہ نوجوان، شیخ محمد یاسر، پر الزام ہے کہ اس نے سوشل میڈیا پر ملعون راجہ سنگھ کے حوالے سے ایک متنازع پوسٹ شیئر کی تھی۔ اس کے بعد مبینہ طور پر ایک درجن سے زیادہ افراد کے ایک گروہ نے مسلم لڑکے کو گھر سے زبردستی لے گئے، اس دوران انتہائی نازیبا زبان استعمال کی اور ایک مندر کے قریب لے جا کر ایک پوسٹر کو زبردستی دودھ سے دھلوانے پر مجبور کیا۔
وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نوجوان سے زبردستی معافی بھی منگوائی گئی، جس میں وہ آئندہ ایسا عمل نہ دہرانے کا وعدہ کر رہا ہے۔ اس واقعہ پر یاسر کے افراد خاندان، محبوب نگر کے مقامی افراد اور امجد اللہ خان (مجلس بچاؤ تحریک کے ترجمان) نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ سب کچھ مبینہ طور پر پولیس کی موجودگی میں ہوا اور ابتدائی طور پر پولیس نے مداخلت نہیں کی بلکہ الٹا متاثرہ نوجوان اور اس کے والد کو ہی حراست میں لیا گیا۔
بعد ازاں عوامی دباؤ اور مسلسل پیروی کے بعد پولیس اسٹیشن ٹاون II میں ایف آئی آر (نمبر 85/2026) درج کی گئی، جس میں متعدد سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔ شکایت کے مطابق ملزمان نے غیر قانونی طور پر گھر میں داخل ہو کر نوجوان کو دھمکایا، زبردستی لے گئے اور اس کی تذلیل کی، جبکہ اس واقعہ کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی، جس سے مذہبی منافرت کو ہوا ملی۔
امجد اللہ خان نے کہا کہ ایف آئی آر کا اندراج مثبت پیش رفت ہے، لیکن اصل انصاف اس وقت ہوگا جب تمام ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے اور واقعہ کے دوران مبینہ غفلت برتنے والے پولیس افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر انصاف میں تاخیر ہوئی تو اس سے سماج دشمن عناصر کے حوصلے مزید بلند ہوں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے واقعات نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے معاشرے کے وقار، آئینی حقوق اور قانون کی بالادستی پر حملہ ہیں۔


