ایک عالم دین کی گرفتاری اور معاشرے کی خاموشی!

از: قاری عبد المنان اشرفی (صدر آل انڈیا ضیاء بیت المال ٹرسٹ)

محترم قارئین زندگی کے نشیب و فراز میں غلطی انسان سے سرزد ہو سکتی ہے مگر کسی مہذب معاشرے کی اصل خوبصورتی اس بات میں ہے کہ وہ اعترافِ خطا اور ندامت کے بعد اصلاح کا دروازہ بند نہیں کرتا بلکہ توازن اور حکمت کے ساتھ آگے بڑھنے کا راستہ ہموار کرتا ہے۔

جب کوئی فرد اپنے اوپر عائد ہونے والے الزامات کے حوالے سے وضاحت پیش کر دے اپنی لغزش کا اعتراف بھی کر لے اور خلوصِ دل سے معافی کا طلبگار ہو جائے تو ایک مہذب اور باوقار معاشرے میں عمومی طور پر یہ توقع کی جاتی ہے کہ اس کے ساتھ معاملہ نرمی حکمت اور اصلاح کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے ایسے حالات میں اچانک گرفتاری جیسے سخت اقدام کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں جو نہ صرف متعلقہ فرد بلکہ عوامی سطح پر بھی تشویش کا باعث بنتے ہیں۔

حضرت مولانا عبداللہ سالم قمر قاسمی چترویدی صاحب کی گرفتاری ایک نہایت تشویشناک اور افسوسناک واقعہ ہے جس نے اہلِ علم و دین کے حلقوں میں گہری بے چینی پیدا کر دی ہے ایک ایسے وقت میں جب معاشرہ رہنمائی، اعتدال اور حکمت کا محتاج ہے، ایک عالمِ دین کا اس طرح گرفت میں آنا کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اس واقعے پر علاقہ کی خاموشی مزید دل آزاری کا سبب بن رہی ہے۔ علماء کرام صرف افراد نہیں ہوتے بلکہ وہ امت کے فکری و روحانی رہنما ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ پیش آنے والے معاملات پر سنجیدگی، بصیرت اور ذمہ داری کے ساتھ آواز اٹھانا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ اگر معاشرہ ایسے مواقع پر خاموشی اختیار کر لے تو یہ رویہ ناانصافی کو تقویت دینے کے مترادف ہو جاتا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر مولانا سے لغزش سرزد ہوئی تھی، تو انہوں نے نہ صرف اس کا اعتراف کیا بلکہ معافی بھی طلب کی۔ اسلامی تعلیمات اور انسانی اصول یہی سکھاتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنی غلطی تسلیم کر لے اور ندامت کا اظہار کرے تو اسے درگزر اور اصلاح کا موقع دیا جانا چاہیے۔ سزا کے بجائے اصلاح کا دروازہ کھلا رکھنا ہی ایک مہذب اور باوقار معاشرے کی پہچان ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جذباتیت سے ہٹ کر انصاف، توازن اور حکمت کے ساتھ اس معاملے کو دیکھیں۔ علماء کی عزت و حرمت ہمارے دینی تشخص کا اہم حصہ ہے، اور ان کے ساتھ پیش آنے والے معاملات میں خیر خواہی، اعتدال اور انصاف کا دامن تھامنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اسی ضمن میں جمعیۃ علماء ہند سے مودبانہ گزارش ہے کہ مولانا عبداللہ سالم قمر قاسمی چترویدی صاحب کی گرفتاری کے معاملے میں اپنی مؤثر آواز بلند کرے۔ اس نازک وقت میں آپ کی آواز نہ صرف مولانا کے حق میں انصاف کی راہ ہموار کرے گی بلکہ اہلِ علم کے حوصلوں کو بھی تقویت دے گی۔ جمعیۃ علماء ہند ہمیشہ سے مظلوموں کی حمایت اور حق و انصاف کی جدوجہد میں پیش پیش رہی ہے، لہٰذا امید ہے کہ اس معاملے میں بھی بروقت اور مؤثر قدم اٹھایا جائے گا۔

اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ وہ اس نازک صورتحال کو خیر و عافیت میں بدل دے، مولانا موصوف کو جلد از جلد رہائی نصیب فرمائے، اور ہمیں حق بات کہنے اور انصاف کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔

(نوٹ: ادارہ کا مضمون نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں)

اپنا تبصرہ بھیجیں