حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے ضلع جگتیال کے ورشاکونڈا گاؤں میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ نہ صرف انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے بلکہ ریاست میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ نفرت اور قانون کی کمزور گرفت کا بھیانک ثبوت بھی ہے۔ ایک معمر شخص محمد اقبال قریشی (60) اور ان کے کمسن بیٹے محمد انس قریشی (16) کو جس بے دردی سے نشانہ بنایا گیا، وہ کسی مہذب معاشرے میں قابلِ تصور نہیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ دونوں باپ بیٹا اپنے روزگار کے سلسلے میں معمول کے مطابق گوشت فروخت کر رہے تھے کہ اچانک ایک مشتعل ہجوم، جو خود کو مذہبی شناخت کے نام پر پیش کر رہا تھا، نے ان پر حملہ کر دیا۔ انہیں بس اسٹینڈ پر گاندھی مجسمے کے قریب ستون سے باندھ کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ منظر نہ صرف لرزہ خیز ہے بلکہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح کچھ شدت پسند عناصر قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر کھلے عام دہشت پھیلا رہے ہیں۔
امجد اللہ خان، ترجمان مجلس بچاؤ تحریک نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے “ماب لنچنگ طرز کا حملہ” قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے واقعات جو پہلے اتر پردیش، بہار اور ہریانہ جیسے علاقوں میں دیکھے جاتے تھے، اب تلنگانہ جیسے نسبتاً پرامن سمجھے جانے والے صوبے میں بھی عام ہوتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے براہِ راست ریاستی حکومت، بالخصوص وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب خود وزیر اعلیٰ کے پاس محکمہ داخلہ ہے، تو پھر ایسے واقعات کا بار بار پیش آنا انتظامی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اقلیتوں کے جان و مال کا تحفظ کس کی ذمہ داری ہے؟
سب سے تشویشناک پہلو پولیس کا رویہ ہے۔ ہر بار کی طرح اس واقعے میں بھی صرف رسمی کارروائی یعنی ایف آئی آر درج کر کے ذمہ داری سے ہاتھ جھاڑ لینے کی روایت دہرائی جا رہی ہے۔ جب سینکڑوں افراد ہجوم کا حصہ ہوتے ہیں تو محض چند افراد کی گرفتاری کیا انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے؟ کیا یہ کھلی چھوٹ نہیں کہ باقی مجرم دندناتے پھریں؟
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایسے واقعات کے بعد اکثر سیاسی و مذہبی قیادت خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔ وہی قیادت جو انتخابات کے دوران ووٹ مانگنے کے لیے سرگرم نظر آتی ہے، آج مظلوموں کی آواز بننے سے قاصر کیوں ہے؟
مقامی لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام ملزمان کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے۔ فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات، خصوصاً عیدالاضحیٰ کے پیش نظر۔
اگر کانگریس حکومت واقعی انصاف اور امن کی دعویدار ہے تو اسے الفاظ نہیں بلکہ عمل سے ثابت کرنا ہوگا۔ ورنہ ایسے واقعات عوام کے اعتماد کو مکمل طور پر ختم کر دیں گے، اور یہ خاموشی تاریخ میں مجرمانہ غفلت کے طور پر لکھی جائے گی۔


