بڑی ووٹ چوری؟ آندھرا پردیش انتخابات پر سنگین سوالات: آدھی رات کے بعد 17 لاکھ ووٹ ڈالے جانے کا دعویٰ، شدید بے ضابطگیوں کا الزام

حیدرآباد (دکن فائلز) آندھرا پردیش اسمبلی انتخابات 2024 کے نتائج کے بعد ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جہاں معروف ماہرِ معاشیات پرکالا پربھاکر نے انتخابی عمل میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا ہے۔

مدھیامم آن لائین کی رپورٹ کے مطابق پربھاکر نے ایک پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا کہ پولنگ ختم ہونے کے بعد غیر معمولی طور پر بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے گئے۔ ان کے مطابق تقریباً 17 لاکھ ووٹ آدھی رات کے بعد ڈالے گئے، جبکہ مجموعی طور پر تقریباً 52 لاکھ ووٹ رات 8 بجے سے لے کر صبح 2 بجے تک ریکارڈ کیے گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریاست بھر کے تقریباً 3,500 پولنگ بوتھس پر ووٹنگ رات 2 بجے تک جاری رہی، جو کہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے۔ پربھاکر نے اس رفتار پر بھی سوال اٹھایا، ان کے مطابق ووٹنگ کی رفتار اس قدر تیز تھی کہ تقریباً ہر 20 سیکنڈ میں ایک ووٹ درج کیا جا رہا تھا، جبکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کو ری سیٹ کرنے میں بھی وقت لگتا ہے۔

یہ الزامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب این چندرابابو نائیڈو کی قیادت میں ٹی ڈی پی اتحاد نے انتخابات میں بھاری کامیابی حاصل کرتے ہوئے 175 میں سے 164 نشستیں جیت لیں۔ صرف ٹی ڈی پی نے 135 سیٹیں حاصل کیں جبکہ بی جے پی اور جناسینا سمیت اتحادی جماعتوں نے بھی نمایاں کامیابی حاصل کی۔

الزامات کو مزید تقویت اس وقت ملی جب ووٹنگ فیصد کے اعداد و شمار میں نمایاں فرق سامنے آیا۔ ابتدائی طور پر شام 5 بجے تک ووٹنگ کی شرح تقریباً 68 فیصد بتائی گئی تھی، لیکن بعد میں یہ شرح بڑھ کر 81 فیصد سے زیادہ ہو گئی، جس پر ناقدین نے سوال اٹھایا کہ پولنگ ختم ہونے کے بعد اتنا بڑا اضافہ کیسے ممکن ہوا۔

اس معاملے پر قانونی ماہرین نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ بوتھ لیول ڈیٹا اور ووٹنگ کے تفصیلی ریکارڈ عوامی سطح پر دستیاب نہیں ہیں، جس سے شفافیت متاثر ہو رہی ہے۔ اسی طرح اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بھی پہلے انتخابی شفافیت اور ڈیٹا کی عدم دستیابی پر سوالات اٹھائے تھے۔

سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے بھی اس معاملے کی مکمل جانچ اور ریکارڈز کے آڈٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل پر اعتماد برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ تمام اعداد و شمار بروقت اور شفاف طریقے سے جاری کیے جائیں۔

اگرچہ الیکشن کمیشن کے ذرائع نے ان الزامات کے وقت پر سوال اٹھاتے ہوئے انہیں غیر مناسب قرار دیا ہے، تاہم اس معاملے نے ایک بار پھر انتخابی نظام کی شفافیت اور اعتبار پر سنجیدہ بحث چھیڑ دی ہے۔

یہ تنازع مستقبل میں انتخابی عمل کی نگرانی، ڈیٹا کی دستیابی اور شفافیت کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دے رہا ہے، جن کے جوابات آنا ابھی باقی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں