ایران کی بڑی کامیابی! ایک دن میں 2 امریکی جنگی طیارے مار گرائے، ہیلی کاپٹروں پر بھی حملہ، ایک پائلٹ لاپتہ، دوسرا گرفتار، امریکہ تلملا اٹھا

حیدرآباد (دکن فائلز ویب ڈیسک) ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی نے جمعہ کے روز ایک نیا اور خطرناک موڑ اختیار کر لیا، جب ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے صرف 24 گھنٹوں کے اندر دو جدید امریکی جنگی طیارے مار گرائے، جبکہ ریسکیو آپریشن میں شامل دو ہیلی کاپٹروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تباہ ہونے والے طیاروں میں ایک F-15E اسٹرائیک ایگل اور دوسرا A-10 وارتھوگ شامل ہے۔ امریکی حکام نے طیاروں کے نقصان کی تصدیق تو کی ہے، تاہم مکمل تفصیلات تاحال منظر عام پر نہیں لائی گئیں۔

ایرانی فوج کے مرکزی کمان ‘خاتم الانبیاء’ ہیڈکوارٹر کے مطابق پہلا واقعہ ایران کے جنوب مغربی صوبے کہگیلویہ و بویر احمد میں پیش آیا، جہاں امریکی F-15E طیارہ ایرانی فضائی دفاعی نظام کا نشانہ بنا۔ ابتدائی اطلاعات میں اس طیارے کو F-35 بھی قرار دیا گیا تھا، تاہم بعد میں اس کی تصحیح کی گئی۔

دوسرا واقعہ خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کے قریب پیش آیا، جہاں زمینی مدد فراہم کرنے والا A-10 وارتھوگ طیارہ مار گرایا گیا۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی میں اس نے جدید اور موبائل دفاعی نظام استعمال کیا، جو ریڈار سے بچنے والے طیاروں کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ان دونوں طیاروں میں مجموعی طور پر چار اہلکار سوار تھے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق کچھ اہلکاروں کو امریکی اسپیشل فورسز نے ریسکیو کر لیا ہے، تاہم کم از کم ایک پائلٹ تاحال لاپتہ ہے، جس کے ایران کے ہاتھ لگنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایرانی حکام نے مقامی آبادی سے اپیل کی ہے کہ وہ لاپتہ پائلٹس کی تلاش میں مدد کریں، جبکہ ایک صوبائی گورنر نے پائلٹ کو زندہ یا مردہ پکڑنے والوں کے لیے انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر کوئی امریکی پائلٹ ایران کی تحویل میں آ جاتا ہے تو اسے تہران ممکنہ طور پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں “بارگیننگ چپ” کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔

ادھر امریکی حکام کے مطابق لاپتہ پائلٹس کی تلاش کے لیے بھیجے گئے دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں پر بھی ایرانی دفاعی نظام نے فائرنگ کی۔ اگرچہ امریکی مؤقف ہے کہ ہیلی کاپٹر محفوظ واپس آگئے، تاہم ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ان میں سے ایک کو نشانہ بنایا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورتحال جاری جنگ کا حصہ ہے اور اس سے ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا: “یہ جنگ ہے، اور ہم جنگ کی حالت میں ہیں۔”

دفاعی ماہرین کے مطابق امریکہ نے جنگ کے آغاز میں ایران کے فضائی دفاع کو غیر مؤثر بنانے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن حالیہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران اب بھی مؤثر اور ممکنہ طور پر جدید دفاعی صلاحیت رکھتا ہے، جو امریکی فضائی برتری کو چیلنج کر سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں