ہمارا قرآن وندے ماترم سے منع کرتا ہے! عبادت صرف اللہ کی کرتے ہیں! ہم کسی کی دھمکیوں کے آگے نہیں جھکتے! مسلم خاتون کونسلرز کی ہمت، شجاعت اور ایمانی جذبہ کو سلام (حق گوئی پر مبنی ویڈیوز ضرور دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں میونسپل کارپوریشن کے اجلاس کے دوران ایک معمول کی بجٹ بحث اس وقت شدید سیاسی اور نظریاتی تنازعہ میں بدل گئی جب دو مسلم خاتون کونسلرز نے “وندے ماترم” گانے سے انکار کر دیا۔ اس جراتمندانہ مؤقف نے نہ صرف ایوان میں ہنگامہ برپا کیا بلکہ ریاست بھر میں بحث کا موضوع بن گیا۔

کانگریس سے تعلق رکھنے والی کونسلرز فوزیہ شیخ علیم اور روبینہ اقبال نے واضح طور پر کہا کہ وہ اپنے مذہبی عقیدے اور ایمان کے خلاف کوئی عمل نہیں کریں گی۔ ان کے اس اعلان پر بی جے پی اراکین نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے قومی جذبات کی توہین قرار دیا، جس کے بعد ایوان میں شدید نعرے بازی اور تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

صورتحال اس قدر کشیدہ ہو گئی کہ چیئرمین منا لال یادو کو مداخلت کرتے ہوئے فوزیہ شیخ کو ایوان سے باہر جانے کی ہدایت دینی پڑی۔ تاہم تنازع ایوان کے باہر بھی جاری رہا اور میڈیا کے سامنے بیانات نے معاملے کو مزید گرم کر دیا۔

روبینہ اقبال نے نہایت بے باکی سے کہاکہ “ہم کسی کی دھمکیوں کے آگے نہیں جھکتے۔ ہمارے اسلامی عقیدے کے مطابق ‘وندے ماترم’ پڑھنا درست نہیں، کیونکہ ہم صرف اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ وطن سے محبت نہیں کرتیں۔ “ہم ‘سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا’ جیسے نغمے خوشی سے گاتے ہیں، مگر عبادت صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے۔”

ان کے اس واضح اور اصولی مؤقف نے جہاں ایک طرف شدید تنقید کو جنم دیا، وہیں دوسری جانب اسے ضمیر کی آواز اور مذہبی آزادی کے حق میں ایک مضبوط مثال بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ بہت سے حلقوں میں ان کی ہمت، شجاعت اور حق گوئی کو سراہا جا رہا ہے کہ انہوں نے دباؤ کے باوجود اپنے عقیدے پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

روبینہ اقبال نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر کچھ عناصر مسلمانوں کو کاروبار کرنے سے روکتے ہیں تو انہیں ایران سے تیل درآمد کرنا بھی بند کر دینا چاہیے۔ انہوں نے اپنی ہی جماعت کانگریس پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو صرف “ووٹ بینک” سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پارٹی نے ان کے خلاف کارروائی کی تو وہ آزاد حیثیت سے انتخاب لڑیں گی اور ضرورت پڑی تو مجلس اتحاد المسلمین میں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ دوسری جانب بی جے پی نے اس معاملے پر سخت موقف اپناتے ہوئے دونوں کونسلرز کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا عندیہ دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے تاریخی حوالوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “وندے ماترم” آزادی کی جدوجہد کی علامت رہا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس معاملے نے کانگریس کے اندر بھی اختلافات کو بے نقاب کر دیا۔ پارٹی ترجمان کے کے مشرا نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ان بیانات کو ناقابل قبول قرار دیا اور کارروائی کا مطالبہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں