حیدرآباد (دکن فائلز) اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے درمیان اہم امن مذاکرات 21 گھنٹوں کے طویل دور کے بعد بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے۔ یہ مذاکرات مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور حالیہ جنگ کے بعد صورتحال کو بہتر بنانے کی ایک بڑی سفارتی کوشش سمجھے جا رہے تھے، تاہم بنیادی اختلافات کے باعث کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے، جنہوں نے مذاکرات کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے لیے یہ “بری خبر” ہے کیونکہ امریکہ نے اپنا “آخری اور بہترین” معاہدہ پیش کیا تھا، جسے ایران نے قبول نہیں کیا۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ ایران کا جوہری پروگرام رہا۔ ان کے مطابق امریکہ کا مطالبہ تھا کہ ایران واضح اور طویل مدتی یقین دہانی کرائے کہ وہ نہ صرف اب بلکہ مستقبل میں بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا بنانے کی کوشش نہیں کرے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وینس نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ ہی امریکی پالیسی کا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی سابقہ جوہری تنصیبات اور افزودگی کے مراکز پہلے ہی تباہ کیے جا چکے ہیں، تاہم مستقبل کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔
دوسری جانب ایران نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا اور کہا کہ واشنگٹن کے مطالبات غیر حقیقت پسندانہ اور یکطرفہ تھے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ان کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کے خواہاں نہیں ہیں۔
ادھر صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ مذاکرات کامیاب ہوں یا نہ ہوں، امریکہ پہلے ہی “فتح حاصل کر چکا ہے”۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کی بحریہ، فضائیہ، فضائی دفاعی نظام اور ریڈار نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اس کی عسکری صلاحیت کو کمزور کر دیا ہے۔
مذاکرات کے دوران ایک اور اہم مسئلہ آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی رہا، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔ ایران کی جانب سے اس راستے میں رکاوٹوں کے باعث عالمی جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔ امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحریہ اس علاقے میں بارودی سرنگوں کو صاف کرنے اور راستہ بحال کرنے کے لیے سرگرم ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ امریکہ دنیا کے دیگر ممالک، بشمول چین، جاپان، جنوبی کوریا، فرانس اور جرمنی کے لیے اس اہم بحری راستے کو بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات کی ناکامی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، جبکہ جنگ بندی بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گئی ہے۔ اگر آئندہ دنوں میں سفارتی کوششیں دوبارہ شروع نہ ہوئیں تو صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔


