حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے ضلع سہارنپور میں انسدادِ دہشت گردی دستے (اے ٹی ایس) نے ایک مذہبی رہنما مفتی ذاکر کو سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد شیئر کرنے کے بعد پاکستان سے مبینہ روابط رکھنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
پولیس نے دیوبند کے “مل والا پھاٹک” علاقہ سے ملزم کو حراست میں لیا۔ اے ٹی ایس کے مطابق مفتی ذاکر سوشل میڈیا کے ذریعہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) قومی شہری رجسٹر (این آر سی)، یو جی سی پالیسیز، ووٹر لسٹ نظرثانی اور رام مندر فیصلہ کے خلاف مواد شیئر کر رہے تھے۔
میڈیا اس معاملہ کو بڑھاچڑھا کر پیش کررہی ہے کیونکہ گرفتار شخص ایک خاص مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ مفتی ذاکر واٹس ایپ کے ذریعہ پاکستان میں موجود بعض مشتبہ افراد سے رابطہ میں تھے اور افواہیں پھیلا کر فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دے رہے تھے۔
پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور اس کے موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی جانچ جاری ہے۔
واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ ہندوتوا طاقتیں مسلمانوں کے خلاف انتہائی نفرت انگیز و شرانگیزی کی اپنی ناپاک مہم کو جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاتی۔حکومت اور پولیس کو چاہئے کہ اس طرح کی شرانگیزی کرنے والوں کے خلاف بھی قانون کے مطابق کاروائی کریں۔


