صیہونی درندگی جاری: اسرائیل نے لبنان کے متعدد دیہاتوں کو دھماکوں سے اڑادیا (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران جہاں ایک طرف امریکا اور ایران کے درمیان میزائل حملوں، سخت بیانات اور سفارتی کوششوں کا سلسلہ جاری رہا، وہیں دوسری جانب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں سرحدی دیہات کی منظم تباہی کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔

برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے متعدد دیہات کو اس طریقے سے مسمار کیا کہ گھروں میں پہلے بارودی مواد نصب کیا گیا اور پھر انہیں ریموٹ کنٹرول کے ذریعے بڑے دھماکوں سے اڑا دیا گیا۔ اخبار نے اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز کا جائزہ لیا، جن میں طیبہ، ناقورہ اور دیر سریان جیسے سرحدی دیہات میں اجتماعی دھماکوں کے مناظر دکھائے گئے۔

لبنانی میڈیا نے بھی دیگر سرحدی علاقوں میں اسی نوعیت کی کارروائیوں کی اطلاعات دی ہیں، تاہم ان دعوؤں کی مکمل تصدیق کے لیے سیٹلائٹ تصاویر فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ کارروائیاں اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے اس بیان کے بعد سامنے آئیں، جس میں انہوں نے سرحدی دیہات کے “تمام گھروں” کو تباہ کرنے کی بات کی تھی۔ یہ حکمت عملی غزہ کے علاقوں رفح اور بیت حانون میں اپنائے گئے ماڈل سے ملتی جلتی بتائی جا رہی ہے، جہاں رفح میں تقریباً 90 فیصد مکانات تباہ کر دیے گئے تھے۔

ماہرین کے مطابق شہری آبادی کے گھروں کو اس طرح منظم انداز میں تباہ کرنا “ڈومیسائیڈ” کہلاتا ہے، جس کا مقصد کسی علاقے کو رہائش کے قابل نہ چھوڑنا ہوتا ہے۔ غزہ میں اس طرزِ عمل پر اسرائیل کو نسل کشی جیسے سنگین الزامات کا بھی سامنا ہے۔

اسرائیل کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں حزب اللہ کے ٹھکانوں کے خلاف کی جا رہی ہیں، جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ شہری گھروں کے اندر سرنگیں اور عسکری تنصیبات قائم کیے ہوئے ہے۔ اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر کے دریائے لیتانی تک ایک “سکیورٹی زون” قائم کرے گی، اور جب تک شمالی اسرائیلی علاقوں کی سلامتی یقینی نہیں بنائی جاتی، بے گھر افراد کو واپسی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس اعلان نے طویل المدتی بے دخلی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

لبنانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملوں میں ہفتے کے روز مزید 18 افراد ہلاک ہوئے، جس کے بعد لبنان میں جاری کارروائیوں میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 2000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ لبنان کے ساتھ ایسا امن معاہدہ چاہتے ہیں جو “نسلوں تک قائم رہے”، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ حزب اللہ پر لاگو نہیں ہوگا، جسے اسرائیل بدستور “دہشت گرد تنظیم” قرار دیتا ہے۔

https://www.instagram.com/reels/DXB2i6HjPl0/

اپنا تبصرہ بھیجیں