حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے صنعتی شہر نوئیڈا میں ہزاروں فیکٹری مزدوروں کا احتجاج، جو کم اجرتوں اور خراب کام کے حالات کے خلاف شروع ہوا، دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے سیاسی تنازعہ میں تبدیل ہوگیا ہے۔ ایک جانب مزدور اپنی بنیادی ضروریات پوری نہ ہونے کی شکایت کر رہے ہیں، تو دوسری جانب ریاستی حکومت اور پولیس اس پورے معاملے کو ’’منصوبہ بند سازش‘‘ قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہی ہیں، جس پر اپوزیشن جماعتوں نے سخت تنقید کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق شہر کے تقریباً 80 مقامات پر 40 ہزار سے زائد مزدور سڑکوں پر نکل آئے اور کئی مقامات پر پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین نے پتھراؤ کیا، جبکہ بعض جگہوں پر گاڑیوں کو آگ لگانے اور توڑ پھوڑ کے واقعات بھی پیش آئے۔ اس کے جواب میں پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے آنسو گیس کے گولے داغے اور اب تک 300 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
مزدوروں کا کہنا ہے کہ ماہانہ تقریباً 12 ہزار روپے تنخواہ میں گزارا ممکن نہیں، جبکہ کرایہ ہی 4 سے 7 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔ سالانہ معمولی اضافہ بھی مہنگائی کی رفتار کے سامنے بے معنی ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں مزدور بہتر اجرت اور انسانی بنیادوں پر کام کے حالات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے مزدوروں کے حالات کو ’’ملک کے محنت کشوں کی آخری پکار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بڑھتی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور عالمی معاشی دباؤ کا سب سے زیادہ بوجھ غریب مزدور اٹھا رہا ہے، جبکہ حکومت اس کی آواز سننے کے بجائے اسے دبانے میں مصروف ہے۔
سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے حکومت کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کو پہلے سے احتجاج کی اطلاع تھی، مگر اس کے باوجود حالات کو بگڑنے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ ’’سازش‘‘ ہے تو اس کی ذمہ دار خود حکومت ہے۔
اتر پردیش کے وزیر محنت انیل راج بھر نے احتجاج کو ایک ’’گہری اور منظم سازش‘‘ قرار دیتے ہوئے یہاں تک دعویٰ کیا کہ اس کے تانے بانے پاکستان سے جڑے ہو سکتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ حالیہ دہشت گردی سے متعلق گرفتاریوں کے تناظر میں اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ہر عوامی احتجاج کو بیرونی سازش قرار دینا ایک پرانا ہتھکنڈہ ہے، جس کے ذریعہ اصل مسائل سے توجہ ہٹائی جاتی ہے۔
نوئیڈا پولیس کمشنر لکشمی سنگھ کے مطابق احتجاج ایک ’’منظم منصوبہ‘‘ تھا اور اس کے پیچھے ایک نیٹ ورک کام کر رہا تھا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ واٹس ایپ گروپس کے ذریعے اشتعال انگیزی کی گئی۔
لیکن سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ اگر واقعی ایسی منصوبہ بندی تھی تو پولیس اور انٹیلی جنس ادارے پہلے سے اسے روکنے میں کیوں ناکام رہے؟ مزید یہ کہ پرامن احتجاج کرنے والے مزدوروں پر طاقت کا استعمال اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں حکومتی رویہ پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہیں۔
دباؤ بڑھنے پر حکومت نے کم از کم اجرت میں 21 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت غیر ہنر مند مزدوروں کی تنخواہ 13,690 روپے، نیم ہنر مند کی 15,059 روپے اور ہنر مند مزدور کی 16,868 روپے مقرر کی گئی ہے۔ تاہم مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ بھی مہنگائی کے مقابلے میں ناکافی ہے۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا ہے جب اتر پردیش میں بلدیاتی انتخابات قریب ہیں اور 2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاری بھی شروع ہو چکی ہے۔ نوئیڈا کا یہ واقعہ حکمراں جماعت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے، کیونکہ یہ مزدور طبقے میں بڑھتی بے چینی کو ظاہر کرتا ہے۔


