بڑی خبر: لوک سبھا نشستیں 543 سے 850 ہوجائیں گی! نئی حدبندی سے متعلق آئینی ترمیمی بل پر گرما گرم بحث کا امکان، جنوبی ہند میں تشویش کی لہر

حیدرآباد (دکن فائلز) مرکزی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں ایک اور متنازعہ آئینی ترمیمی بل پیش کیے جانے کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے، جس کے تحت لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد موجودہ 543 سے بڑھا کر تقریباً 850 تک کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی خواتین کے لیے ریزرویشن سے متعلق بل بھی اسی اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

پارلیمانی امور کی وزارت نے اس سلسلے میں تمام اراکینِ پارلیمنٹ کو باضابطہ اطلاع دیتے ہوئے بلوں کی نقول بھی فراہم کردی ہیں۔ مجوزہ حدبندی (ڈیلیمٹیشن) بل کے مطابق ریاستوں میں تقریباً 815 نشستیں جبکہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 35 نشستیں رکھی جا سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں مجموعی نشستوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

حکومت کا منصوبہ ہے کہ پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد ایک نیا ڈیلیمٹیشن کمیشن تشکیل دیا جائے، جو نئی مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر حلقہ بندیوں اور نشستوں کی تقسیم کا عمل مکمل کرے۔ ذرائع کے مطابق یہ عمل تیزی سے مکمل کرکے 2029 کے عام انتخابات میں نافذ کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

نشستوں میں اضافہ کے بعد درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے لیے مخصوص نشستوں میں بھی متناسب اضافہ ہوگا۔ یہ ریزرویشن نئی مردم شماری کے نتائج کے مطابق طے کیا جائے گا۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ حکومت ملک بھر میں لوک سبھا اور اسمبلی نشستوں میں اوسطاً 50 فیصد اضافہ کرنے پر غور کر رہی ہے۔

دوسری جانب اس بل پر ماہرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کی جانب سے شدید تحفظات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ معروف سیاسی تجزیہ کار یوگیندر یادو نے اس بل پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ترمیم موجودہ نشستوں کی تقسیم کے تناسب کو برقرار رکھنے کی کوئی ضمانت فراہم نہیں کرتی۔ ان کے مطابق 1971 کی مردم شماری کی بنیاد پر نافذ نشستوں کی تقسیم پر عائد پابندی کو مکمل طور پر ختم کیا جا رہا ہے، جو پہلے 2026 تک بڑھائی گئی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس بل کے ذریعہ یہ اختیار بھی آئین سے نکال کر عام قانون کے دائرے میں ڈال دیا گیا ہے کہ نشستوں کی نئی تقسیم کس مردم شماری کی بنیاد پر ہوگی، جسے سادہ اکثریت سے تبدیل کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ حلقہ بندیوں اور نشستوں کی حتمی تقسیم کا اختیار ڈیلیمٹیشن کمیشن کو دیا جائے گا، جس کے فیصلوں کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔

اس مجوزہ قانون پر جنوبی ہند کی ریاستوں میں خاصی تشویش پائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ جنوبی ریاستوں نے آبادی پر قابو پانے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، اس لیے نئی مردم شماری کی بنیاد پر نشستوں کی تقسیم ہونے کی صورت میں ان ریاستوں کی نمائندگی کم ہو سکتی ہے، جبکہ شمالی ریاستوں کو زیادہ نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ اس صورتحال کو جنوبی ریاستیں اپنے ساتھ ناانصافی کے طور پر دیکھ رہی ہیں اور سیاسی سطح پر اس پر بحث تیز ہوتی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں