’مسلمان اور داڑھی رکھنے پر حملہ کیا گیا!‘ نوئیڈا میں بزرگ مسلم شخص پر ہندوتوا ہجوم کا تشدد معاملہ میں سپریم کورٹ سخت: کہا پولیس افسر “چھپن چھپائی” کیوں کھیل رہا ہے

حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ آف انڈیا نے اتر پردیش کے شہر نوئیڈا میں 2021 میں پیش آنے والے مبینہ نفرت انگیز حملے کے کیس میں پولیس کی کارکردگی پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت سے سوال کیا کہ تفتیشی افسر عدالت کے ساتھ “چھپن چھپائی” کیوں کھیل رہا ہے۔

جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے سماعت کے دوران ریاست کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج سے سخت سوالات کیے۔

یہ مقدمہ ایک مسلم معمر شخص کی درخواست پر زیر سماعت ہے، جنہوں نے الزام لگایا کہ 4 جولائی 2021 کو ایک ہجوم نے ان پر صرف اس وجہ سے حملہ کیا کہ وہ مسلمان ہیں اور داڑھی رکھتے ہیں۔ درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ ان کے ساتھ تشدد، بدسلوکی اور تضحیک آمیز سلوک کیا گیا۔

عدالت نے خاص طور پر اس بات پر اعتراض کیا کہ پولیس نے ایف آئی آر میں دفعہ 153-بی (مذہب یا برادری کی بنیاد پر نفرت پھیلانے سے متعلق) کو شامل کیوں نہیں کیا، جبکہ پہلے عدالت میں یہ تسلیم کیا جا چکا تھا کہ اس کیس میں اس دفعہ کے اطلاق کے شواہد موجود ہیں۔

اسی طرح دفعہ 295-اے (مذہبی جذبات کو مجروح کرنے) کے اطلاق کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی ان دفعات کے اطلاق کی ہدایت دے چکی ہے، لیکن پولیس نے دفعہ 153-بی کو دوبارہ ہٹا دیا، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔

ریاست کی جانب سے کہا گیا کہ نچلی عدالت نے مزید تفتیش کی اجازت دی ہے اور متعلقہ دفعات شامل کی جائیں گی۔ تاہم سپریم کورٹ اس وضاحت سے مطمئن نہیں ہوئی۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو طلب کرنے پر بھی غور کیا، لیکن سرکاری وکیل کی درخواست پر مکمل تعمیل کے لیے دو ہفتے کا وقت دے دیا گیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر ہدایات پر عمل نہ ہوا تو متعلقہ افسران کو طلب کیا جا سکتا ہے۔

اس کیس کی اگلی سماعت 19 مئی کو مقرر کی گئی ہے۔ عدالت نے سخت لہجے میں کہا کہ افسران کو خبردار کر دیا جائے، کیونکہ عدالت کو انہیں طلب کر کے سرزنش کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں