الہ آباد ہائی کورٹ نے حالیہ سماعتوں کے دوران اہم اور حساس معاملات پر نہایت سخت اور واضح موقف اختیار کرتے ہوئے نہ صرف ریاستی کارروائیوں بلکہ قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) کے کردار پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ عدالت نے مدارس کے خلاف جاری تحقیقات، ہجومی تشدد (موب لنچنگ) اور بین المذاہب شادی کرنے والے جوڑوں کو درپیش ہراسانی جیسے معاملات کو بنیادی انسانی حقوق سے جوڑتے ہوئے سخت ریمارکس دیے۔
عدالت نے اتر پردیش میں مدارس کے خلاف شروع کی گئی اقتصادی جرائم ونگ کی تحقیقات پر عبوری روک لگا دی۔ عدالت نے اس کارروائی کو بظاہر یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی تعلیمی یا مذہبی ادارے کے خلاف کارروائی قانون اور شفافیت کے اصولوں کے تحت ہونی چاہیے، نہ کہ عمومی شبہات یا دباؤ کے تحت۔
عدالت نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر کسی بے ضابطگی کی شکایت ہے تو اس کے لیے مخصوص قانونی طریقہ کار موجود ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سماعت کے دوران عدالت نے خاص طور پر قومی انسانی حقوق کمیشن کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب ملک میں ہجومی تشدد جیسے سنگین واقعات پیش آ رہے ہیں اور جب بین المذاہب شادی کرنے والے جوڑوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے تو ایسے میں انسانی حقوق کے تحفظ کے ذمہ دار ادارے کی خاموشی “حیران کن” ہے۔
عدالت نے واضح طور پر کہا کہ عوام میں خوف کی فضا پائی جا رہی ہے اور ایسے حالات میں اداروں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔عدالت نے ان مقدمات کا بھی حوالہ دیا جہاں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد شادی کے بعد ہراسانی، دھمکیوں اور سماجی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ “ریاست کا فرض ہے کہ وہ ہر شہری کو آئینی حقوق کے مطابق تحفظ فراہم کرے، چاہے وہ کسی بھی مذہب یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔”
عدالت نے واضح کیا کہ ہجومی تشدد نہ صرف قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ کو بڑھاتا ہے۔ ایسے واقعات پر خاموشی یا سست روی ناقابل قبول ہے۔
عدالت نے مدارس کے خلاف EOW تحقیقات پر روک لگادی، انسانی حقوق کمیشن کی خاموشی کو “تشویشناک” قرار دیتے ہوئے بین المذاہب شادی کرنے والوں کے تحفظ کی ضرورت ظاہر کی اور ہجومی تشدد کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔


