حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے ضلع شاملی کی ایک عدالت نے مبینہ جبری تبدیلی مذہب کے معاملے میں گرفتار خاتون چاندنی قریشی اور ان کے والد اسلام قریشی کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔
وہیں دوسری جانب جس شحص کو جبری طور پر اسلام میں داخل کرنے کا الزام ہے وہی کہہ رہا ہے کہ میں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے۔ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ اکشے یادو نے منگل کے روز دونوں کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے پر ضمانت دینے کی کوئی مناسب بنیاد موجود نہیں ہے۔
پراسیکیوشن افسر یو کے جوہری کے مطابق دوا تاجر دیوراج ملک کی شکایت پر ایک مولوی سمیت 9 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ شکایت کنندہ کا الزام ہے کہ ان کے 30 سالہ بیٹے آیوش ملک کو چندنی قریشی سے شادی کے بہانے اسلام قبول کرایا گیا۔
شکایت میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ تبدیلی مذہب ایک سازش کا حصہ تھی جس کا مقصد آیوش کی جائیداد پر قبضہ کرنا تھا۔ شکایت کنندہ کے مطابق آیوش کو دہلی لے جایا گیا، جہاں مبینہ طور پر جعلی دستاویزات کی بنیاد پر شادی کی رسم انجام دی گئی۔
پولیس نے چندنی قریشی اور ان کے والد اسلام قریشی کو 7 جون کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق معاملے کی مزید جانچ جاری ہے اور دیگر ملزمین کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
عدالت کی جانب سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد دونوں ملزمین کو فی الحال عدالتی تحویل میں ہی رہنا ہوگا۔ اس معاملے نے مقامی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کی اصل حقیقت واضح ہوگی۔


