رہائی کی دہلیز پر پھر زنجیریں: ’مسلمان ہونے کی سزا دی جارہی ہے‘، اعظم خان چیخ پڑے

حیدرآباد (دکن فائلز) جیل کے آہنی دروازے جب مہینوں بعد کھلے، تو ایک 78 سالہ نحیف و ناتواں باپ اور اس کے بیٹے کے دل میں شاید یہ امید جاگی تھی کہ اب وہ اپنے اجڑے ہوئے گھر کی جانب پلٹ سکیں گے۔ مگر رام پور ڈسٹرکٹ جیل کی سلاخوں سے باہر قدم رکھتے ہی، آزادی کی وہ چند گھڑیاں پلک جھپکتے میں دردناک کرب اور بے بسی کے سیاہ اندھیرے میں بدل گئیں۔ الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد جیسے ہی اعظم خان اپنے بیٹے عبداللہ اعظم کے ساتھ جیل کی چوکھٹ سے باہر آئے، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور بھاری پولیس دستوں نے ان کا گھیراؤ کر کے ایک بار پھر قید و بند کا پروانہ ان کے ہاتھ میں تھما دیا۔

عمر کے آخری پڑاؤ پر کھڑے بزرگ رہنما، جن کے چہرے پر بیماری، قید کی تلخی اور برسوں کے مصائب کی گہری جھریاں تھیں، میڈیا کے کیمروں کے سامنے آئے تو ان کی آواز میں مایوسی اور اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا ایک ایسا نوحہ تھا جس نے سننے والوں کے کلیجے دہلا دیے۔ لرزتے ہونٹوں اور بھیگی آنکھوں کے ساتھ انہوں نے صرف اتنا کہا کہ ”اب کہنے کو کیا باقی رہ گیا ہے… یہ صرف اور صرف مسلمان ہونے کی سزا ہے۔ گناہ یہ تھا کہ ایک مسلمان نے بچوں کے ہاتھوں میں قلم تھمانے کے لیے اسکول بنایا، ایک مسلمان نے درسگاہ اور یونیورسٹی کھڑی کی… یہی ہمارا جرم ہے!“

یہ الفاظ محض ایک بیان نہیں، بلکہ انصاف کے ایوانوں کے سامنے ایک بے بس بزرگ کا خون کے آنسو رلا دینے والا شکوہ تھے۔ وہی اعظم خان جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ عوامی سیاست اور غریب بچوں کے لیے محمد علی جوہر یونیورسٹی بنانے میں کھپا دیا، آج اسی یونیورسٹی کے کھنڈر بنتے خوابوں کا ملبہ اپنے بوڑھے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔ جس تعلیمی آشیانے کو انہوں نے بڑی آرزوؤں سے سینچا تھا، اس پر بلڈوزر کے سائے منڈلا رہے ہیں اور انسداد منی لانڈرنگ کے تحت اس کی 1170 کروڑ کی عمارتیں و زمینیں بے رحمی سے ضبط کر لی گئیں۔ علم کا گہوارہ تراشنے کا صلہ یہ ملا کہ ان کے خلاف 58 مقدمات کی ایسی زنجیر بنا دی گئی جس کی ہر کڑی ان کی سانسیں گھونٹنے کے لیے کافی ہے۔

پولیس کی گاڑی میں بیٹھنے سے قبل جب انہوں نے سسکتے اور نعرے لگاتے حامیوں کو دیکھ کر اپنا لرزتا ہوا کمزور ہاتھ اٹھایا، تو وہ منظر کسی بھی درد دل رکھنے والے انسان کی روح کو تڑپا دینے کے لیے کافی تھا۔

سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے اس دلخراش منظر پر گہرے دکھ اور کرب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ظالمانہ نظام سے انصاف کی امید رکھنا اب خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اعظم خان نے جو کچھ کہا وہ ایک تلخ اور جلتی ہوئی حقیقت ہے یہ قانون کا نفاذ نہیں بلکہ انتقام کی ایسی آگ ہے جس میں ایک بوڑھے رہنما کے وجود کو راکھ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اب اتوار کے دن غازی آباد کی خصوصی پی ایم ایل اے عدالت میں اس شکستہ دل اور بیمار بزرگ کے ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں