احرام کی چادر، لبوں پر درود و سلام اور سجدے میں پروازِ روح! عمرہ روانگی کے موقع پر دعا کرتے ہوئے امام عبداللہ اوزکان خالقِ حقیقی سے جا ملے (ویڈیو ضرور دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) ترک سرزمین پر عشقِ الٰہی اور محبتِ رسول ﷺ سے سرشار ایک ایسا روح پرور واقعہ پیش آیا ہے جس نے اہلِ ایمان کے دلوں کو تڑپا دیا ہے اور ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا ہے۔ ترکیہ کے تاریخی شہر قونیہ کے ہوائی اڈے پر جمعۃ المبارک، 6 نومبر کی سحر خیز ساعتوں میں اس وقت فضا یکسر نورانی ہو گئی جب 68 سالہ ریٹائرڈ امام عبداللہ اوزکان کفن نما سفید احرام زیب تن کیے، عمرہ کے متبرک سفر پر روانہ ہونے والے 180 خوش نصیب زائرین کے قافلے کو الوداعی دعا کرا رہے تھے۔ لبوں پر آقائے دو جہاں ﷺ پر درود و سلام کے نغمے تھے اور دل بزمِ حرم کی تڑپ سے لبریز تھا کہ اچانک روح قفصِ عنصری سے پرواز کر کے بارگاہِ ایزدی میں حاضر ہو گئی۔

بے شہر سے تعلق رکھنے والے بزرگ عالمِ دین عبداللہ اوزکان ایک ٹریول کمپنی کے نمائندے کی حیثیت سے زائرینِ حرم کی رہنمائی فرما رہے تھے۔ رات کے تقریباً دو بجے جب تمام سفری تیاریاں اور قانونی مراحل مکمل ہو چکے تھے، تو روانگی سے قبل قافلے کے زائرین نے اپنے رہنما کی اقتدا میں الوداعی نماز ادا کی اور بارگاہِ رب العزت میں دستِ دعا پھیلائے۔ فضا “لبیک اللھم لبیک” کی صداؤں اور درود پاک کے نور سے منور تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق، عبداللہ اوزکان انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ مناجات اور نبیِ رحمت ﷺ کی بارگاہ میں نذرانۂ عقیدت پیش کر رہے تھے کہ اچانک ان کی آواز مدہم پڑ گئی اور وہ سجدہ ریزی کی حالت میں آگے کی جانب جھکتے ہوئے گر پڑے۔

ایئرپورٹ کے طبی عملے نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر طبی امداد (سی پی آر) فراہم کی، جس کے بعد انہیں فوری طور پر سلجوق یونیورسٹی میڈیکل فیکلٹی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے دل کا دورہ پڑنے کے باعث ان کے انتقال کی تصدیق کر دی۔ تاہم اہلِ نظر کے نزدیک یہ موت نہیں بلکہ محبوبِ حقیقی کے دربار میں حاضری کا وہ انعام تھا جس کی تمنا اولیاء و صالحین عمر بھر کرتے ہیں۔

مرحوم کے قریبی رفیقِ کار اسماعیل گوموش، جو پندرہ برسوں سے ان کے شانہ بشانہ خدمات انجام دے رہے تھے، نے اس روح فرسا مگر ایمان افروز منظر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ بالکل تندرست تھے اور سفر کے لیے بے حد پرجوش تھے۔ ان کے الفاظ تھے: “ہم نماز مکمل کر کے درود و سلام پڑھ رہے تھے کہ اچانک ان کی آواز دھیمی ہوئی اور وہ سجدے کے انداز میں زمین پر تشریف لے گئے۔ یہ وہ انجام ہے جو ہر مؤمن کا دلی ارمان ہوتا ہے۔”

بے شہر کے مفتی انس اکتاش نے مرحوم امام کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ عبداللہ اوزکان نے اپنی پوری زندگی محراب و منبر اور دینِ حق کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی، اور پروردگار نے انہیں رخصتی بھی ایسی عطا فرمائی جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے قابلِ رشک ہے۔

جمعہ کے ہی روز تاریخی چارشی مسجد میں نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد مرحوم عبداللہ اوزکان کو بے شہر کے قبرستان میں نم آنکھوں، درود و تسبیح کی صداؤں اور دلی دعاؤں کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔ جنازے میں علمائے کرام، معززینِ علاقہ اور زائرین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

فرمانِ نبوی ﷺ کا مفہوم ہے کہ انسان جس حالت پر جیتا ہے، اسی پر اٹھایا جائے گا اور احرام کی حالت میں لبیک پکارتے ہوئے جان دینے والے قیامت کے دن اسی حالت میں محشور ہوں گے۔ عبداللہ اوزکان کی یہ مبارک رحلت اس مادہ پرست دور میں یہ روشن سبق دے گئی کہ جن کے دل حرم کی پاکیزگی اور درودِ مصطفیٰ ﷺ سے آباد ہوں، موت ان کے لیے فنا نہیں بلکہ اپنے رب کے حضور شرفِ باریابی کا ابدی دروازہ بن جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں