ووٹرز کے لیے بڑی خبر اور رہنمائی! ڈرافٹ لسٹ سے خارج ووٹرز بغیر کسی خوف کے ‘فارم 6’ بھریں، قانونی کارروائی نہیں ہوگی: الیکشن کمیشن (پوری خبر ضرور پڑھیں اور دوسروں کو شیئر کریں)

حیدرآباد (دکن فائلز) الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) نے ملک بھر کے ووٹرز کے لیے ایک انتہائی اہم وضاحتی ہدایت جاری کی ہے۔ کمیشن کے مطابق، جاری ‘اسپیشل انٹینسیو رویژن’ (SIR – خصوصی نظرثانی انتخابی فہرست) کے دوران جن ووٹرز کے نام ڈرافٹ انتخابی فہرست سے غائب ہو گئے ہیں، وہ ‘فارم 6’ جمع کر کے اپنا نام دوبارہ درج کروا سکتے ہیں۔ کمیشن نے واضح کیا کہ پہلے سے اندراج شدہ ہونے کے باوجود نیا فارم جمع کرانے پر ووٹرز کے خلاف کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

ووٹرز کا خوف اور مسئلہ کیا تھا؟
ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف الیکٹورل آفیسرز (CEOs) کو بھیجے گئے مراسلے میں الیکشن کمیشن نے تسلیم کیا کہ ایسی شکایات موصول ہوئی تھیں جن کے مطابق کئی شہری جن کے نام ڈرافٹ لسٹ سے خارج کر دیے گئے تھے، وہ فارم 6 بھرنے سے ہچکچا رہے تھے۔

اس ہچکچاہٹ کی وجہ فارم 6 میں موجود وہ حلفیہ بیان (Declaration) تھا، جس کے تحت درخواست گزار کو یہ اقرار کرنا ہوتا ہے کہ وہ “پہلی بار انتخابی فہرست میں نام شامل کرانے کی درخواست دے رہا ہے”۔ شہریوں کو یہ اندیشہ تھا کہ چونکہ وہ پہلے بھی ووٹر رہ چکے ہیں، اس لیے یہ حلف نامہ دینا “جھوٹا بیان” (False Declaration) تصور کیا جا سکتا ہے اور عوامی نمائندگی ایکٹ، 1950 (Representation of the People Act) کی دفعہ 31 کے تحت ان پر جھوٹ بولنے کی پاداش میں قانونی مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن کی باضابطہ وضاحت اور احکامات
ووٹرز کی اس پریشانی کو دور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے مندرجہ ذیل امور واضح کیے ہیں:
جھوٹا بیان تصور نہیں ہوگا: اگر کسی ووٹر کا نام ایس آئی آر ڈرافٹ لسٹ سے خارج ہو گیا ہے اور وہ دوبارہ نام شامل کرانے کے لیے فارم 6 جمع کرتا ہے، تو صرف اس بنیاد پر اسے جھوٹا حلف نامہ نہیں مانا جائے گا کہ وہ شخص ماضی میں ووٹر رہ چکا ہے۔
افسران کو مقدمہ نہ چلانے کی ہدایت: کمیشن نے تمام الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز (EROs) کو سخت ہدایت دی ہے کہ وہ ایسے شہریوں کے خلاف عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 31 کے تحت کوئی بھی تادیبی یا قانونی کارروائی شروع نہ کریں۔
لازمی شرط: اس قانونی تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ درخواست گزار کسی دوسرے پارلیمانی یا اسمبلی حلقے میں پہلے سے بطور ووٹر درج نہ ہو اور اس کے کوائف قانون کے مطابق درست ہوں۔
عوامی تشہیر کا حکم: کمیشن نے تمام ریاستوں کے چیف الیکٹورل آفیسرز کو حکم دیا ہے کہ وہ اس فیصلے کی تشہیر مقامی زبانوں اور علاقائی میڈیا کے ذریعے کریں تاکہ عام شہریوں میں پایا جانے والا خوف ختم ہو سکے اور وہ اپنا ووٹ بحال کرا سکیں۔

نوٹ برائے ووٹرز: فارم 6 عام طور پر نئے ووٹر کے اندراج کے لیے استعمال ہوتا ہے، تاہم موجودہ حالات میں کمیشن نے اسے کٹے ہوئے ناموں کی بحالی کے لیے بھی قابلِ قبول قرار دے دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں