اسرائیلی اور امریکی مسلمانوں کی دانشمندی نے وقت کے فرعونوں کو جھکادیا: ہندوستانی مسلمانوں کےلئے روشن مثال

حیدرآباد (دکن فائلز کی خصوصی رپورٹ) امریکی کانگریس کے انتخابات میں سیاسی بصیرت اور حکمتِ عملی کے مظاہرے نے واشنگٹن اور تل ابیب کے ایوانوں میں ارتعاش برپا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں وقت کے فرعون نما حکمرانوں کی پالیسیوں اور باہمی گٹھ جوڑ کو تاریخی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

عبرانی ذرائع ابلاغ کے تفصیلی اعترافات کے مطابق، انتخابی نتائج ایک ایسے سیاسی زلزلے کی صورت اختیار کر چکے ہیں جس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار کے عزائم کو خاک میں ملانے کے ساتھ ساتھ قابض اسرائیلی ریاست اور اس کے وزیراعظم بنیامن نتن یاہو کے مستقبل پر بھی گہرے سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت نے اپنی رپورٹ میں اس شکست کو ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی جماعت کے لیے انتہائی رسوا کن قرار دیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد کانگریس کی کلیدی کمیٹیوں کا کنٹرول ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس جانے کی راہ ہموار ہو چکی ہے، جس سے نہ صرف سابقہ انتظامیہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے قانون سازی کے منصوبے اور بین الاقوامی معاہدے کھٹائی میں پڑ جائیں گے، بلکہ ٹرمپ اور ان کے قریبی معاونین کے خلاف عدالتی و پارلیمانی تحقیقات کا ایک نیا اور سخت مرحلہ بھی شروع ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب، تل ابیب میں اس سیاسی بحران کے اثرات پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ معروف عبرانی تجزیہ کار امیر تیبون نے متنبہ کیا ہے کہ بنیامن نتن یاہو کا اقتدار میں برقرار رہنا اب تل ابیب اور واشنگٹن کے روایتی تعلقات کے لیے ایک سنگین اور براہِ راست خطرہ بن چکا ہے۔ تیبون کے مطابق کہ نتن یاہو اب ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں کے حلقوں میں ایک ناپسندیدہ اور بوجھ سمجھی جانے والی شخصیت بن چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ریپبلکن پارٹی کے بااثر حلقے نتن یاہو کو ایران کے ساتھ ایک بے مقصد، مہنگی اور ناکام جنگ کی طرف دھکیلنے کا ذمہ دار گردانتے ہیں، جس کے منفی اثرات نے امریکی ووٹروں کے فیصلے کو متاثر کیا اور ریپبلکنز کو شکست سے دوچار کیا۔ واشنگٹن کے اندر نتن یاہو کا پیدا کردہ منفی تاثر اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ جب تک وہ اقتدار پر براجمان ہیں، نئی کانگریس کی جانب سے خطے میں کسی بھی نئے معاہدے یا مراعاتی پیکیج کی منظوری کے امکانات تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔

امریکی داخلی سیاست میں نتن یاہو کی دانستہ مداخلت اور اثرانداز ہونے کی حالیہ کوششیں بھی ان کے لیے الٹی ثابت ہوئی ہیں، جس کے بعد امریکی حلقوں میں ان کی جارحانہ پالیسیوں پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ قابض ریاست کے داخلی محاذ پر بھی سیاسی بنیادیں لرز چکی ہیں۔ اپوزیشن جماعت ‘یش عتید’ کے قائد یائر لپید نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکی انتخابات کے نتائج، بدلتی ہوئی عالمی پیش رفت اور جنرل سکیورٹی سروس (شاباک) کے سربراہ کے بیانات نے نتن یاہو کی قیادت میں کسی بھی قسم کی قومی اتحاد کی حکومت بننے کے امکانات کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ نتن یاہو کا مسلسل کرسی پر براجمان رہنا خود قابض ریاست کی بقا، سلامتی اور اس کی بین الاقوامی حیثیت کے لیے شدید ترین خطرہ بن چکا ہے۔ سیاسی بیداری اور دانشمندانہ رائے دہی کے اس عمل نے واضح کر دیا ہے کہ طاقت، تکبر اور ناانصافی پر مبنی پالیسیاں عوامی سطح پر منظم حکمت عملی کے سامنے نہیں ٹھہر سکتیں، اور ظالمانہ فیصلوں پر نازاں اقتدار کے ایوان بالآخر اپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں الجھ کر پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں