چھتیں چھین لیں، سجدہ گاہیں اجاڑ دیں! بے گھر ہوتے مسلمانوں کا کرب: اتراکھنڈ کے رام نگر میں 86 مسلم گھرانوں پر بلڈوزر کا قہر

حیدرآباد (دکن فائلز) ایک غریب انسان کے لیے اس کا کچا پکا گھر محض مٹی اور اینٹوں کا ڈھیر نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس کی عزتِ نفس، کڑی محنت کی کمائی اور زمانے کے سرد و گرم سے بچاؤ کا واحد سہارا ہوتا ہے۔ لیکن اتراکھنڈ کے ضلع نینی تال کے علاقے رام نگر میں ریاستی مشینری نے جس بے دردی سے 86 مسلم گھرانوں کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کیا، اس نے انسانیت کے ضمیر پر گہرے زخم لگا دیے ہیں۔

دریائے کوسی کے کنارے واقع پچھڑی کی مسلم بستی میں جب کارروائی شروع ہوئی تو منظر کسی جنگ زدہ علاقے کا سا تھا۔ انتظامیہ اور محکمہ جنگلات نے اس بستی کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے 1200 سے زائد مسلح پولیس اور جنگلاتی اہلکاروں کا محاصرہ قائم کیا اور 28 جے سی بی بلڈوزروں کو میدان میں اتار دیا۔ سب سے دل دوز منظر وہ تھا جب بے بس اور لاچار مکین اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے گھروں کی چھتیں، لکڑیاں اور کھڑکیاں اکھاڑنے پر مجبور ہو گئے تاکہ بلڈوزر کے کچلنے سے پہلے وہ اپنی زندگی بھر کے اثاثوں کا کچھ ملبہ بچا سکیں۔ آنکھوں میں تیرتے آنسو، گود میں بلکتے بچے اور کھلے آسمان تلے لٹا ہوا سامان دیکھ کر پتھر دل بھی موم ہو جائیں۔

اس دردناک سانحے پر کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ محمد جاوید نے ایوان اور ریاست کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے نہایت تلخ اور جائز سوال اٹھایا کہ ”کیا پورے ملک کے اندر صرف مسلمانوں کے گھر ہی غیر قانونی ہیں؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرکاری زمینوں سے تجاوزات ہٹانے کا پیمانہ سب کے لیے ایک جیسا کیوں نہیں ہوتا؟ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، نہ کہ کسی ایک مخصوص برادری کو نشانہ بنانے کا ذریعہ۔“

انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ یہ 14 ہیکٹر اراضی سرکاری جنگلاتی زمین تھی جسے خالی کرایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اسی علاقے میں دسمبر 2025 میں بھی کارروائی کرتے ہوئے 51 مکانات اور جھونپڑیاں مسمار کی گئی تھیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ اس مہم کو قانونی کارروائی کی بجائے کھلم کھلا مذہبی اور سیاسی انتقام کا رنگ دیا گیا۔ نینی تال پولیس نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ یہ آپریشن وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کی ہدایات پر ”آبادیاتی تبدیلیوں“ کے خلاف مؤثر کارروائی کے طور پر انجام دیا گیا۔ خود وزیر اعلیٰ اس سے قبل بلڈوزر کارروائیوں کو نام نہاد ”لینڈ جہاد“ کا خاتمہ قرار دے چکے ہیں۔

کسی بھی خاندان کو بغیر کسی متبادل اور بازآبادکاری کے یوں بے یار و مددگار چھوڑ دینا صریحاً انسانیت دشمنی ہے۔ قانونی اور آئینی اعتبار سے بھی یہ عمل سراسر ناجائز ہے۔ آئین ہند ہر شہری کو عزت کے ساتھ جینے کا بنیادی حق فراہم کرتا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ بارہا یہ واضح کر چکی ہے کہ چھت اور پناہ گاہ کا حق دراصل جینے کے حق ہی کی ایک شاخ ہے، اور کسی کو سڑک پر پھینک دینا آئین کی خلاف ورزی ہے۔

جب تجاوزات کے نام پر صرف مخصوص مسلم بستیوں کو نشانہ بنایا جائے اور دیگر غیر قانونی تعمیرات کو نظر انداز کر دیا جائے، تو یہ برابری کے آئینی حق کا کھلا قتل ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے بلڈوزر انصاف کے خلاف سخت احکامات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انتظامیہ خود منصف بن کر فوری سزائیں نہیں دے سکتی۔ کسی بستی کو گرانے سے قبل شفاف قانونی عمل، نوٹس اور اپیل کے حقوق کا تحفظ لازمی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں