’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘ کے فلک شگاف نعروں سے دہلی گونج اٹھی! مودی، شاہ اور گیانیش کے خلاف تاریخی احتجاج: راہل گاندھی کی بے خوف قیادت میں اپوزیشن انڈیا اتحاد کی طاقت کا زبردست مظاہرہ

حیدرآباد (دکن فائلز) دارالحکومت کے تاریخی میدان اور شاہراہوں پر اپوزیشن انڈیا اتحاد کے زیرِ اہتمام منعقدہ تاریخی احتجاج نے بھارتی جمہوریت کے افق پر ایک نیا اور ولولہ انگیز باب رقم کر دیا ہے۔ لاکھوں کے جمِ غفیر سے گونجتے ہوئے ’ووٹ چور گدی چھوڑ‘ کے فلک شگاف نعروں نے مودی-شاہ اقتدار اور الیکشن کمیشن کے اعلیٰ ترین افسران کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ پرجوش مظاہرہ اس آفاقی سچائی کا ناقابلِ تردید ثبوت بن گیا ہے کہ کسی بھی جمہوری نظام میں اصل اور حتمی اقتدارِ اعلیٰ صرف اور صرف عوام کی مرضی اور ان کے ووٹ کے پاس ہوتا ہے۔

اس عظیم الشان تحریک میں قائدِ حزب اختلاف راہل گاندھی نے جس بے باکی، غیر متزلزل استقامت اور بصیرت مند قیادت کا ثبوت دیا، اس نے عوامی حقوق اور آئینی بقا کے لیے ان کے عزم کو ایک نئی بلندی عطا کر دی ہے۔ راہل گاندھی نے اقتدار کی تمام تر سختیوں اور دباؤ کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے مودی، امت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی مبینہ ساز باز پر دو ٹوک سوالات اٹھائے۔ انتخابی شفافیت پر اٹھنے والے عوامی شکوک کو جس مدلل اور نڈر انداز میں انہوں نے ایک ملک گیر تحریک میں تبدیل کیا، اس نے کروڑوں ووٹرز کے اندر جمہوریت پر اعتماد اور جدوجہد کی نئی شمع روشن کر دی ہے۔

یہ اجتماع دراصل آئین میں درج پرامن احتجاج کے بنیادی حق کا روشن ترین نمونہ ہے۔ ایک زندہ اور بیدار جمہوریت میں عوامی احتجاج محض مخالفت کا نام نہیں، بلکہ اداروں کی خود مختاری پر شب خون اور انتخابی نظام میں گڑبڑ کے خلاف عوام کی آخری اور موثر ترین ڈھال ہوتا ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر جب عام شہریوں، کسانوں، نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں نے یک زبان ہو کر شفافیت کا مطالبہ کیا، تو اس نے واضح کر دیا کہ الیکشن کمیشن جیسے خود مختار آئینی اداروں کو جوابدہی سے مستثنیٰ نہیں رکھا جا سکتا۔

انڈیا اتحاد کی تمام اہم جماعتوں کے سرکردہ قائدین کا کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا اپوزیشن کی بے مثال یکجہتی اور تنظیمی طاقت کا مظہر ہے۔ حکومتی رکاوٹوں اور پروپیگنڈے کے باوجود عوامی سیلاب کا دارالحکومت کا رخ کرنا اس امر کی گواہی ہے کہ خوف کے سائے اب چھٹ رہے ہیں اور حزب اختلاف عوامی نبض کو گرفت میں لے کر حقیقی مسائل پر حکومت کا گھیراؤ کرنے میں پوری طرح کامیاب رہی ہے۔

یہ تاریخ ساز مظاہرہ اس پیغام کو امر کر گیا کہ جب بھی جمہوری اداروں پر کاری ضرب لگانے کی کوشش کی جائے گی، عوامی صفوں سے اٹھنے والی بیداری کی لہر اور پرعزم قیادت ہر غاصبانہ عمل کا راستہ روک کر آئین و جمہوریت کی فتح کو یقینی بنائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں