فرقہ پرستوں کی تنگ نظری پر ممبئی ہائیکورٹ کا کاری وار: کہا ’ہوا سب کےلئے۔۔‘، اداکارہ دیا مرزا کی دیوالی مہم ویڈیو بحال کرنے کا حکم

حیدرآباد (دکن فائلز) ممبئی ہائیکورٹ نے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی ماحولیات دوست اور پٹاخہ مکت دیوالی مہم کے سلسلے میں معروف اداکارہ دیا مرزا کی ویڈیو پر اٹھنے والے تنازع پر سخت برہمی اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بلدیاتی ادارے کو مذکورہ ویڈیو فوری طور پر دوبارہ اپ لوڈ کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ماحولیاتی بیداری کی مہم کو فرقہ وارانہ و سیاسی رنگ دینے والے رہنماؤں کو شدید پھٹکار لگاتے ہوئے واضح کیا کہ ملک آئین کے سیکولر اصولوں پر چلتا ہے اور ہر شہری کا یکساں احترام ناگزیر ہے۔

جسٹس گریش کلکرنی اور جسٹس نیلا گوکھلے پر مشتمل دو رکنی بنچ نے بی جے پی کے بعض لیڈروں اور ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے کے اعتراضات کے بعد ویڈیو ہٹائے جانے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ بعض افراد، خصوصاً خود کو عوام کا نمائندہ کہنے والوں کی اس ”تنگ ذہنیت“ (Petty Mindset) سے شدید صدمے میں ہیں۔ بنچ نے کہا کہ ماحولیات، فضائی اور صوتی آلودگی کے خلاف شعور بیدار کرنے کے لیے تیار کی گئی ایک فلاحی ویڈیو کو اس قسم کا رنگ دینا انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول ہے۔

عدالت عالیہ نے معترضین کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ مذہب، ذات پات اور عقیدے سے بالاتر ہو کر معاشرے کے ہر فرد کا احترام کیا جانا چاہیے۔ بنچ نے واضح کیا ”ایک سیکولر جذبہ ہونا چاہیے، اور ملک کا آئین اپنے تمام شہریوں سے اسی جذبے کے فروغ کی امید رکھتا ہے۔ اگر کلپ ہٹایا گیا تھا تو اب اس کا ازسرنو اپ لوڈ کیا جانا ہی عین مناسب ہوگا۔“

عدالت نے خبردار کیا کہ ممبئی جیسے بین الاقوامی شہر کی اصل طاقت اس کا باہمی اتحاد، بھائی چارہ اور یگانگت ہے، جسے چند غیر ذمہ دارانہ اور سستی شہرت پر مبنی بیانات کے ذریعے گزند پہنچانے کی قطعی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سیاسی رہنماؤں کی دوغلی روش کو بے نقاب کرتے ہوئے عدالت نے کہاکہ ”ہم نے کل زہر اگلنے والے کسی بھی سیاست دان یا فرد کو ماحولیاتی تحفظ اور آلودگی کے خلاف بیداری کا کوئی ویڈیو بناتے نہیں دیکھا۔ ہم ایک سیکولر ملک ہیں۔ ہمیں اس قسم کے رویوں سے گہری چوٹ پہنچی ہے۔ یہ مسئلہ خالصتاً ماحولیات کا ہے اور مذہب و ذات پات سے قطع نظر ہر انسان اسی فضا میں سانس لے رہا ہے۔“ عدالت نے دوٹوک انداز میں کہا کہ عوامی اور آئینی عہدوں پر براجمان شخصیات سے اس طرح کے پست بیانات کی قطعی توقع نہیں کی جا سکتی۔

عدالت نے بی ایم سی کمشنر کے انتخاب کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ سماجی بیداری کے لیے سلیبریٹیز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ بالکل درست تھا، اور بلدیاتی ادارے کو اس بے جا تنازع کے سامنے جھک کر ویڈیو ڈیلیٹ نہیں کرنی چاہیے تھی۔ چنانچہ ہائیکورٹ نے بی ایم سی کو دیا مرزا کی ویڈیو کو بلا تاخیر دوبارہ نشر کرنے کا حکم صادر کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں