حیدرآباد (دکن فائلز) مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ان دعوؤں کی ہوا نکل گئی ہے جن میں تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد کو ’غیر قانونی تارکینِ وطن کا گڑھ‘ بنا کر پیش کیا جا رہا تھا۔ حیدرآباد کے تمام 15 اسمبلی حلقوں میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے مکمل ہونے کے بعد انتخابی عملے کو ایک بھی غیر قانونی تارکِ وطن نہیں ملا۔
اس انکشاف نے جہاں سیاسی مفاد کی خاطر مسلمانوں اور حیدرآبادی شہریوں کو بدنام کرنے والی فرقہ پرست طاقتوں کے چہروں پر زوردار سیاسی طمانچہ رسید کیا ہے، وہیں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ و رکنِ پارلیمنٹ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے بی جے پی اور سنگھ پریوار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے زبردست طنز کے تیر چلائے ہیں۔
معروف انگریزی روزنامہ دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، حیدرآباد ضلع کے 15 اسمبلی حلقوں کی ووٹر لسٹوں کی چھان بین کے دوران غیر قانونی تارکینِ وطن کی موجودگی کا بیانیہ مکمل طور پر بے بنیاد ثابت ہوا۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے کمشنر اور ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر آر وی کرنل نے حقائق پر سے پردہ اٹھاتے ہوئے واضح کیا کہ پوری جانچ کے دوران حیدرآباد کی ووٹر لسٹوں میں کوئی بھی روہنگیا مسلم یا بنگلہ دیشی باشندہ درج نہیں پایا گیا۔
مسٹر آر وی کرنل کے مطابق، ضلع کے سنت نگر اسمبلی حلقے میں محض 10 سے 12 ایسے نام سامنے آئے جو نیپال کے شہری تھے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ “اگرچہ وہ غیر ملکی شہری ہیں، لیکن ہم انہیں غیر قانونی تارکینِ وطن نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ قانونی راستے سے بھارت میں داخل ہوئے ہیں۔ تاہم، چونکہ ان کے پاس بھارتی شہریت نہیں ہے اور وہ اپنے ملک نیپال میں حقِ رائے دہی رکھتے ہیں، اس لیے یہاں ووٹر لسٹ میں ان کا نام درج ہونا غیر قانونی تھا، جسے ضابطے کے تحت فوری طور پر خارج کر دیا گیا ہے۔”
اس سرکاری توثیق کے بعد میانمار اور بنگلہ دیش سے آئے تارکینِ وطن کی ووٹر لسٹوں میں شمولیت اور انتخابی عمل کو داغدار کرنے کا من گھڑت فسانہ یکسر زمین بوس ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ ایس آئی آر 2026 کے تحت ووٹروں کا سال 2002 کی انتخابی فہرستوں سے باضابطہ تقابل کیا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد ہی گھس پیٹھیوں کی نشاندہی اور نااہل افراد کا اخراج بتایا گیا تھا۔
ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسد الدین اویسی نے پرمسرت اور فاتحانہ انداز میں کہا کہ اس سچائی کے سامنے آنے پر مٹھائی بانٹی جانی چاہیے۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اس دعوے پر کڑی چوٹ کی جس میں کہا گیا تھا کہ ملک بھر میں ایس آئی آر کے ذریعے تین کروڑ غیر قانونی تارکینِ وطن کو نکالا گیا ہے۔
بیرسٹر اویسی نے کہا کہ جو لوگ حیدرآباد کی ووٹر لسٹوں میں گھس پیٹھیوں کی موجودگی کا الزام لگا رہے تھے اور یہاں ’سرجیکل اسٹرائیک‘ کرنے کا دعویٰ کرتے پھرتے تھے، اب وہ قوم کو بتائیں کہ ان کے الزامات کا کیا ہوا؟ انہوں نے طنزیہ لہجے میں کہاکہ “اب امت شاہ کیا جواب دیں گے؟ بی جے پی کے رہنما اب کیا کہیں گے؟ انہوں نے ووٹر لسٹوں کے نام پر حیدرآباد پر سرجیکل اسٹرائیک کا نعرہ لگایا تھا، لیکن حقیقت یہ سامنے آئی کہ ’پہاڑ کھودا، مگر چوہیا بھی نہیں نکلی‘۔ اگر میڈیا کی یہ رپورٹیں درست ہیں، تو سنگھ کے لوگوں کو عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔”
مجلس کے صدر نے اس مہم کی وجہ سے عام شہریوں کو پیش آنے والی دشواریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کی مشق کے نام پر غریب عوام کو شدید ترین ذہنی اور جسمانی اذیتوں سے گزارا گیا۔ انہوں نے کہاکہ “ہم شروع دن سے اس جانبدارانہ مشق کے خلاف رہے ہیں۔ اس تمام تر سختی اور پریشانی کے باوجود ہماری جماعت نے بلالحاظِ مذہب و ملت تمام حقدار اور حقیقی ووٹرز کی تصدیقی عمل کو مکمل کرانے میں مدد فراہم کی۔ مجلس نے باضابطہ ایک خصوصی موبائل ایپ تیار کی تھی جس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کسی بھی جائز ووٹر کا نام انتخابی فہرست سے غائب نہ ہونے پائے۔”
حیدرآباد کے انتخابی ریکارڈز کی جانب سے ’صفر گھس پیٹھیا‘ کا نتیجہ دراصل ان فرقہ پرست عناصر کی رسوائی ہے جو انتخابات جیتنے کے لیے اقلیتوں کی حب الوطنی اور شہریت پر مسلسل سوالیہ نشان لگاتے رہے ہیں۔ حیدرآباد کے عوام نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ نفرت، غلط بیانی اور خوف پر مبنی سیاست کی بنیادیں ریت کی دیوار سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔


