امریکہ میں مسلمانوں نے رقم کردی نئی تاریخ! مڈٹرم انتخابات میں ٹرمپ کو شکستِ فاش: حیدرآباد دکن کی بیٹی نبیلہ سید کی تاریخی کامیابی، غزہ میں زخمیوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر آدم حموی، فلسطینی نژاد امیدوار ابر کواس اور پہلے مسلم سینیٹر عبدالسید نے بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے

حیدرآباد دکن فائلز) امریکہ کے وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections 2026) میں مسلمانوں اور فلسطینی نژاد امریکی امیدواروں نے کئی تاریخی کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے امریکی سیاست میں اپنی مضبوط موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کو انتخابی میدان میں بڑے سیاسی دھچکے کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرکے امریکی سیاست کا رخ بدل دیا ہے۔

ان انتخابات میں ہندوستانی نژاد حیدرآبادی نبیلہ سید نے الینوائے سے کامیابی حاصل کی، فلسطینی نژاد امیدوار ابر کواس نیویارک کی ریاستی سینیٹ کے لیے منتخب ہوئیں، جبکہ غزہ میں اسرائیلی حملوں کے دوران زخمی فلسطینیوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر آدم حموی نے نیو جرسی سے امریکی ایوانِ نمائندگان کی نشست جیت لی۔ اس کے علاوہ مصری نژاد امریکی سیاست داں عبدل السید نے مشی گن سے سینیٹ کا انتخاب جیت کر امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلمان سینیٹر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

ان کامیابیوں کو امریکی مسلمانوں، ہندوستانی نژاد امریکیوں اور فلسطینی نژاد شہریوں کی سیاسی نمائندگی کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جارہا ہے۔ امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کے لیے بڑا سیاسی جھٹکا ثابت ہوئے۔ انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں برتری حاصل تھی، تاہم تازہ نتائج میں ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں اکثریت حاصل کرلی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی نے متعدد ایسی ریاستوں اور انتخابی حلقوں میں کامیابی حاصل کی جہاں روایتی طور پر ریپبلکن امیدوار مضبوط سمجھے جاتے تھے۔ اس انتخابی نتیجے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے لیے آئندہ دو برسوں میں قانون سازی، حکومتی تقرریوں اور پالیسیوں پر عمل درآمد پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔

ڈیموکریٹس کی اس کامیابی کو ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے۔ مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، ایران کے ساتھ جنگ، تجارتی محصولات اور حکومتی پالیسیوں پر عوامی ناراضگی انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے والے اہم عوامل میں شمار کی جارہی ہے۔

حیدرآبادی بیٹی نبیلہ سید کی کامیابی، 57 فیصد ووٹ حاصل کرکے سینیٹ میں پہنچیں

امریکی ریاست الینوائے میں ہندوستانی نژاد امریکی امیدوار نبیلہ سید نے ریپبلکن امیدوار ڈاربی ہلز کو شکست دے کر ریاستی سینیٹ کی نشست جیت لی۔ نبیلہ سید نے 57 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے ریپبلکن حریف کو 43 فیصد ووٹ ملے۔ نبیلہ سید کے والدین 1980 کی دہائی میں ہندوستان کے شہر حیدرآباد سے امریکہ منتقل ہوئے تھے۔ اس طرح حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے خاندان کی بیٹی نے امریکی سیاست میں ایک اہم کامیابی حاصل کرکے ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بھی باعثِ فخر لمحہ پیدا کیا ہے۔

نبیلہ سید اس سے قبل 2022 میں الینوائے کی ریاستی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی تھیں اور وہ وہاں پہنچنے والی پہلی مسلمان خواتین میں شامل تھیں۔ اب اسمبلی سے ریاستی سینیٹ تک کا ان کا سیاسی سفر ایک اہم کامیابی تصور کیا جارہا ہے۔ ان کی انتخابی مہم میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) سے متعلق ڈیٹا سینٹرز کا مسئلہ بھی نمایاں رہا۔ انہوں نے مقامی عوام کے مسائل اور ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنایا۔

غزہ میں فلسطینی زخمیوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر آدم حموی کانگریس میں پہنچ گئے
امریکی انتخابات کی ایک انتہائی اہم اور قابلِ ذکر کامیابی مصری نژاد امریکی ڈاکٹر آدم حموی کی ہے، جنہوں نے ریاست نیو جرسی سے ایوانِ نمائندگان کی نشست جیت لی۔ ڈیموکریٹ امیدوار ڈاکٹر آدم حموی نے ریپبلکن امیدوار گریگ میل کو شکست دی۔ وہ نیو جرسی سے کانگریس میں پہنچنے والے پہلے مسلمان اور امریکی ایوانِ نمائندگان کے پہلے مصری نژاد رکن ہوں گے۔

ڈاکٹر آدم حموی کی کامیابی اس لیے بھی خصوصی اہمیت رکھتی ہے کہ وہ محض سیاست داں نہیں بلکہ ایک تجربہ کار سرجن اور انسانی خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر بھی ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کی غزہ پر جنگ کے دوران 2024 اور 2025 میں وہاں رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دیں اور اسرائیلی حملوں میں زخمی ہونے والے فلسطینیوں کا علاج کیا۔

وہ دنیا کے مختلف تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں بھی طبی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کی طبی خدمات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ 2004 میں عراق میں امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد انہوں نے امریکی سینیٹر ٹیمی ڈک ورتھ کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انتخابی نتائج کے مطابق ڈاکٹر حموی نے تقریباً 74 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ وہ صحت کی بہتر سہولتوں، سستے مکانات اور تارکین وطن کے حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔

ان کا موقف اسرائیل کو امریکی فوجی امداد فراہم کرنے کے خلاف بھی رہا ہے۔ غزہ میں زخمی فلسطینیوں کی خدمت کرنے والے ایک ڈاکٹر کا امریکی کانگریس تک پہنچنا عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

ابر کواس: نیویارک کی ریاستی سینیٹ میں پہلی فلسطینی نژاد خاتون
امریکی انتخابات میں فلسطینی نژاد امیدوار ابر کواس نے بھی تاریخ رقم کردی۔ انہوں نے نیویارک اسٹیٹ سینیٹ کے ڈسٹرکٹ 12 سے کامیابی حاصل کرکے ریاستی قانون ساز ادارے میں پہنچنے والی پہلی فلسطینی نژاد امریکی شخصیت ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کی کامیابی کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ وہ نیویارک کی ریاستی اسمبلی یا سینیٹ میں منتخب ہونے والی پہلی حجاب پوش خاتون بھی قرار دی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ابر کواس نے تقریباً 75 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ ان کی کامیابی کا اعلان اس وقت کیا گیا جب تقریباً 90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی تھی۔ نیویارک میں پیدا ہونے والی ابر کواس فلسطینی والدین کی صاحبزادی ہیں۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں عوام کے لیے سستے مکانات، صحت کی سہولتوں، تارکین وطن کے حقوق، عوامی ٹرانسپورٹ اور جنگی اخراجات کی مخالفت جیسے مسائل کو نمایاں کیا۔

وہ گزشتہ 15 برس سے زائد عرصے سے سماجی اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں سے وابستہ رہی ہیں۔ فلسطینیوں کے حقوق، تارکین وطن اور محنت کش طبقے کے مسائل پر ان کی جدوجہد نے انہیں سیاسی میدان میں ایک نمایاں شناخت دی۔ ان کی انتخابی مہم کو نیویارک کے میئر زہران ممدانی، سینیٹر برنی سینڈرز اور کانگریس کی رکن رشیدہ طلیب کی حمایت بھی حاصل رہی۔

عبدل السید امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر منتخب
ان انتخابات کی سب سے بڑی تاریخی کامیابیوں میں مصری نژاد امریکی ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید کی کامیابی بھی شامل ہے۔ انہوں نے ریاست مشی گن سے امریکی سینیٹ کی نشست جیت کر امریکی تاریخ میں پہلے مسلمان سینیٹر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

42 سالہ عبدل السید نے ریپبلکن امیدوار اور سابق رکن کانگریس مائیک راجرز کو شکست دی۔ دستیاب نتائج کے مطابق عبدل السید نے 50.88 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ مائیک راجرز کو 47.14 فیصد ووٹ ملے تھے۔ اس وقت تقریباً 77 فیصد متوقع ووٹوں کی گنتی مکمل ہوئی تھی اور انتخابی ادارے نے انہیں کامیاب قرار دیا۔ عبدالرحمن محمد عبدل السید مصری نژاد امریکی سیاست داں اور معالج ہیں۔ وہ اس سے قبل ڈیٹرائٹ شہر کے محکمہ صحت کے سربراہ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

ان کی انتخابی مہم میں صحت کی بہتر سہولتوں، معاشی نابرابری، عام شہریوں کے مسائل اور انتخابی سیاست میں بڑے سرمایہ داروں کے اثر و رسوخ جیسے موضوعات اہم رہے۔ وہ اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے سخت ناقد اور اسرائیل کو امریکی فوجی امداد فراہم کرنے کے مخالف بھی رہے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران انہیں اپنے نام اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ عبدل السید نے کامیابی کے بعد کہا کہ ان کے نام اور مذہب کو نشانہ بنایا گیا، لیکن انہوں نے جدوجہد جاری رکھی۔

انہوں نے اپنی کامیابی کے بعد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ان کی نہیں بلکہ پورے امریکہ کی کامیابی ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جنوری میں حلف برداری کے بعد انہیں صرف سینیٹر کہہ کر پکارا جاسکتا ہے۔

امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سیاسی پوزیشن اور ریپبلکن پارٹی کی حکمت عملی پر بھی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ ریپبلکن پارٹی کو ٹیکساس، کینساس، اوہائیو، جنوبی کیرولائنا اور دیگر ریاستوں میں اہم انتخابی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی ایسے حلقوں میں ڈیموکریٹ امیدوار کامیاب ہوئے جہاں ماضی میں ریپبلکن پارٹی کو مضبوط حمایت حاصل رہی تھی۔

انتخابی نتائج کے بعد ریپبلکن پارٹی کے بعض رہنماؤں اور سیاسی حکمت عملی کے ماہرین نے بھی شکست کی ذمہ داری ٹرمپ کی پالیسیوں پر عائد کی۔ ان کے مطابق مہنگائی، عوامی مسائل کو نظرانداز کرنے اور بعض غیر مقبول فیصلوں نے ریپبلکن امیدواروں کی انتخابی کارکردگی کو متاثر کیا۔

امریکی مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی میں نیا باب
ان انتخابات کے نتائج کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ مسلمان اور فلسطینی نژاد امریکی امیدواروں نے مختلف سطحوں پر کامیابی حاصل کرکے امریکی سیاست میں اپنی موجودگی کو مزید مستحکم کیا ہے۔ نبیلہ سید کی کامیابی ہندوستانی نژاد امریکی برادری کے لیے اہم ہے، ڈاکٹر آدم حموی کی کامیابی انسانی خدمات انجام دینے والے ایک معالج کے سیاسی سفر کی عکاس ہے، ابر کواس کی کامیابی فلسطینی نژاد خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے تاریخی ہے، جبکہ عبدل السید کی کامیابی امریکی سینیٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی کا ایک نیا باب کھولتی ہے۔

حیدرآباد سے امریکہ منتقل ہونے والے والدین کی بیٹی نبیلہ سید سے لے کر غزہ میں زخمی فلسطینیوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر آدم حموی اور پہلے مسلمان امریکی سینیٹر عبدل السید تک، ان کامیابیوں نے 2026 کے امریکی انتخابات کو تاریخ ساز بنا دیا ہے۔ یہ نتائج امریکی مسلمانوں کے لیے صرف انتخابی کامیابی نہیں بلکہ سیاسی نمائندگی، سماجی شناخت اور جمہوری عمل میں بڑھتے ہوئے کردار کی ایک اہم علامت بھی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں