معمولی مزدور کے بیٹے محمد حسین سید اور قرض لیکر تعلیم حاصل کرنے والے ڈرائیور کے بیٹے معین احمد، ملت کے نوجوانوں کےلئے مشعل راہ

مہاراشٹرا کے ممبئی میں رہنے والے معمولی مزدور کے بیٹے محمد حسین سید نے اور اترپردیش کے مراد آباد میں رہنے والے ڈرائیور کے بیٹے معین احمد نے قوم و ملت کا نام روشن کردیا جبکہ یہ دونوں ملت کے نوجوانوں کےلئے مشعل راہ ہیں۔ انہوں نے غرب کے باوجود نہ صرف اپنی تعلیم کو جاری رکھا بلکہ اپنی سخت محنت و جستجو سے یو پی ایس سی جیسے باوقار امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کی۔

محمد حسین سید کے والد رمضان اسماعیل سید اندرا ڈاک کے لوڈنگ اور ان لوڈنگ سیکشن میں ایک کنٹریکٹ ورکر ہیں۔ ممبئی کے واڑی بندر میں پی ڈی میلو روڈ کے قریب جھوپڑا بستی میں ایک کمرے کے مکان میں رہنے والے ایک معمولی مزدور کے بیٹے حسین سید نے یو پی ایس سی امتحان میں 570 واں مقام حاصل کیا۔ انہوں نے ممبئی حج ہاؤس کوچنگ اینڈ گائیڈنس سنٹر سے کوچنگ حاصل کی تھی۔ انہوں نے بچپن میں بڑے افسر بننے کا خواب دیکھا تھا جو اب پورا ہوگیا۔ حسین سید نے غربت کے باوجود اپنی تعلیم کو جاری اور اپنے حوصلے کو بلند رکھا۔ ان کی کامیابی پر مقامی مسلمانوں نے مسرت کا اظہار کیا۔

وہیں دوسری طرف ایک اور مسلم نوجوان نے یو پی ایس سی امتحان میں شاندار کامیابی کے ذریعہ قوم کو ملت کا نام روشن کردیا۔ کمپیوٹر آپریٹر کے طور پر کام کرنے والے معین نے پیسوں کی دقت کے باوجود سخت محنت کی اور اعلیٰ مقام حاصل کیا۔
تفصیلات کے مطابق معین احمد کے والد ایک ڈرائیور ہیں جبکہ وہ خود کمپیوٹر آپریٹر کے طور پر ملازمت انجام دے رہے ہیں نے نہ صرف اپنی پڑھائی کا خرچ خود اٹھایا بلکہ گھر والوں کا سہارا بھی بنے۔ غربت کے باوجود معین احمد نے دہلی جا کر یو پی ایس سی کی تیاری کرنے کا فیصلہ کیا اور رشتہ داروں و دوستوں سے قرض حاصل کرکے اپنی پڑھائی کو جاری رکھا۔ مراد آباد کے معین احمد نے یو پی ایس سی امتحان میں 296ویں رینک حاصل کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں