حیدرآباد (دکن فائلز) بہار میں آل انڈیا جیولرز اینڈ گولڈ اسمتھ فیڈریشن کی جانب سے برقعہ، نقاب یا چہرہ ڈھانپنے والی خواتین کے خلاف جاری کردہ متنازع ہدایت نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ جویلرس اسوسی ایشن نے مبینہ ’’سکیورٹی خدشات‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے برقعہ پوش خواتین کو زیورات کی خریداری سے روکنے یا چہرہ ظاہر کرنے کی شرط عائد کی، جسے کئی حلقوں نے ایک خاص طبقہ کو نشانہ بنانے اور بدنام کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
اسی دوران سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک سی سی ٹی وی ویڈیو نے اس فیصلے کی بنیادوں کو ہی ہلا کر رکھ دیا۔ وائرل ویڈیو میں صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ سونے کی دوکان سے لاکھوں روپے مالیت کے زیورات چوری کرنے والی خواتین نہ تو برقعہ پوش ہیں اور نہ ہی کسی مسلم شناخت کی حامل، بلکہ بغیر برقعہ کے دوسری مذہبی برادری سے تعلق رکھنے والی خواتین بے خوف و خطر زیورات چراتے ہوئے نظر آتی ہیں۔
یہ واقعہ اتر پردیش کے پریاگ راج میں واقع کلیان جیولرز کے شوروم کا ہے، جہاں دو خواتین گاہک بن کر داخل ہوئیں اور محض 14 منٹ کے اندر تقریباً 14 لاکھ روپے مالیت کے سونے کے زیورات چوری کر کے فرار ہو گئیں۔ بعد ازاں سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے چوری کا انکشاف ہوا اور پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اس وائرل ویڈیو نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جرائم کا تعلق کسی لباس یا مذہب سے نہیں بلکہ نیت اور جرم پیشہ ذہنیت سے ہوتا ہے۔ ناقدین کے مطابق بہار میں جویلرس اسوسی ایشن کی جانب سے برقعہ پوش خواتین پر الزام تراشی دراصل ایک بے بنیاد اور امتیازی قدم ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/i/status/2008778006551269669
عوامی حلقوں میں مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ اس طرح کے فیصلوں پر نظرثانی کی جائے اور کسی ایک طبقے کو نشانہ بنانے کے بجائے تمام شہریوں کے ساتھ یکساں اور منصفانہ سلوک کیا جائے، تاکہ معاشرے میں نفرت اور تقسیم کی فضا پیدا نہ ہو۔


