سیاست میں کچھ بھی ممکن! مہاراشٹر میں مجلسی کونسلروں نے بی جے پی کی حمایت کردی، بھگوا پارٹی نے کانگریس کی تائید کا کیا اعلان

حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹر میں بلدیاتی سیاست ایک بار پھر غیر متوقع اتحادوں کی وجہ سے خبروں میں ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اقتدار حاصل کرنے کے لیے ایک جانب اسدالدین اویسی کی قیادت والی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) سے ہاتھ ملایا تو دوسری جانب کانگریس کے ساتھ بھی مقامی سطح پر مفاہمت کر لی، جس پر شدید سیاسی بحث چھڑ گئی ہے۔

اکولا ضلع کے اکوت میونسپل کونسل میں بی جے پی نے اکوت وکاس منچ کے نام سے نیا محاذ قائم کر کے اکثریت حاصل کی۔ 35 رکنی کونسل میں بی جے پی کے صرف 11 منتخب ارکان تھے، تاہم حیران کن طور پر AIMIM کے 5 کونسلروں نے بی جے پی کی قیادت والے اتحاد کی حمایت کر دی۔ اس اتحاد میں شیو سینا (شندے و یو بی ٹی دونوں دھڑے)، این سی پی (اجیت پوار اور شرد پوار دھڑے) اور پرہار جن شکتی پارٹی بھی شامل ہیں۔

اس اتحاد کے نتیجے میں بی جے پی کی مایا دھولے صدر منتخب ہو گئیں۔ ناقدین نے اس اتحاد کو بی جے پی کے ’’بٹیں گے تو کٹیں گے‘‘ جیسے انتخابی نعروں کے بالکل برعکس قرار دیا ہے۔

دوسری جانب تھانے ضلع کی امبرناتھ میونسپل کونسل میں بی جے پی نے اپنی ریاستی اتحادی شیو سینا (شندے گروپ) کو اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے کانگریس، این سی پی اور آزاد ارکان کے ساتھ مل کر صدر کا عہدہ حاصل کر لیا۔ اس فیصلے پر شیو سینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔

شیو سینا (یو بی ٹی) کے ترجمان اور رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے بی جے پی کو ’’دو منہ والا کیچوا‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ پارٹی اقتدار کے لیے اپنے اصول بھول چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ایک طرف کانگریس سے پاک بھارت کا نعرہ دیتی ہے اور دوسری طرف اقتدار کے لیے کانگریس اور مجلس دونوں سے سمجھوتہ کر لیتی ہے۔

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد صرف مقامی سطح کے ہیں اور انہیں ریاست یا قومی سیاست سے جوڑ کر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ وہیں کانگریس نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا کہ یہ فیصلے مقامی قیادت کے ہیں اور پارٹی پالیسی سے ان کا براہِ راست تعلق نہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ان ’’غیر فطری اتحادوں‘‘ نے مہاراشٹر کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور آنے والے بلدیاتی انتخابات میں اس کے دور رس اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں