عید کے دوسرے دن کی اہمیت: بیوی بچوں کو لے کر ساجن چلے سسرال

تحریر: اعجاز آفتاب

اگرچہ عید الفطر کا اصل دن پہلا دن ہوتا ہے جس میں نماز اور خوشیاں منائی جاتی ہیں، لیکن عید کا دوسرا دن بھی ہمارے معاشرے میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ دن رشتوں کو مضبوط بنانے کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ ‌خاص‌کر ‌حیدرآباد دکن کا پورا علاقہ مہمان نوازی اور بیٹی داماد کی خوشی کے لیے بہترین کپڑوں کے جوڑے اور مختلف قسم کے کھانوں کا انتظام کرتے ہیں۔

عید کے دوسرے دن کو عام طور پر “ساجن چلے سسرال” کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ شوہر اپنی بیوی کے گھر (سسرال) جاتا ہے، جو ایک خوبصورت اور خوشگوار روایت ہے۔

یہ دن خاص طور پر نئے شادی شدہ جوڑوں کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔ اس موقع پر دلہن کو اپنے میکے والوں سے ملنے کا موقع ملتا ہے جبکہ داماد سسرال والوں سے مزید قریب ہوتا ہے۔

اس دن کی تیاری بڑے شوق سے کی جاتی ہے۔ لڑکی کے گھر والے خصوصی کھانے اور مٹھائیاں تیار کرتے ہیں اور مہمانوں کا پرتپاک استقبال کرتے ہیں۔

مہمان نوازی اس روایت کا اہم حصہ ہے۔ سسرال والے داماد کی عزت کرتے ہیں، اسے تحائف دیتے ہیں اور محبت کا اظہار کرتے ہیں۔

ساجن چلے سسرال” کی روایت دو خاندانوں کے درمیان محبت اور ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔ اس سے رشتے مضبوط ہوتے ہیں اور دلوں میں قربت پیدا ہوتی ہے۔

یہ دن جذباتی طور پر بھی اہم ہے کیونکہ بیٹی کو اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملتا ہے۔

بعض علاقوں میں اس دن کو خاص انداز میں منایا جاتا ہے، جیسے دوبارہ اچھے کپڑے پہننا، تحائف کا تبادلہ کرنا اور خاندان کے ساتھ خوشیاں بانٹنا۔

اگرچہ یہ کوئی مذہبی فرض نہیں ہے، لیکن اس کی سماجی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ یہ روایت ہمیں رشتوں کی قدر کرنا اور محبت کو برقرار رکھنا سکھاتی ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ عید کا دوسرا دن “ساجن چلے سسرال” خوشیوں کو مزید بڑھا دیتا ہے اور خاندانوں کو قریب لانے کا ایک خوبصورت ذریعہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں