’جادو کی جپھی‘، گلے ملنے کے حیرت انگیز فوائد اور اثرات

مشہور انڈین فلم ’مُنا بھائی ایم بی بی ایس‘ میں ’جادو کی جپھی‘ کے ذریعے پیغام دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ اس سے مثبت جذبات پیدا ہوتے ہیں، جسے ایک فلمی سی بات ہی سمجھا گیا مگر اب ایک تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ گلے لگنے اور لگانے سے صحت اور مزاج پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ’گلے ملنا بہت سے عام دماغی امراض سے نجات میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جبکہ اس کے علاوہ بھی کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں جن میں یہ مشورہ بھی شامل ہے ایک شخص کو روزانہ کتنے لوگوں سے گلے ملنے کی ضرورت ہے۔‘

تناؤ میں کمی
ماہرین کہتے ہیں جب کوئی انسان کسی کو گلے لگاتا ہے تو ایک طرح سے حمایت کو ظاہر کرتا ہے جس کا احساس دونوں کو ہوتا ہے اور جسمانی و اعصابی تناؤ میں کمی آتی ہے۔ جب کوئی دوست یا خاندان کا کوئی فرد زندگی کے کسی ناخوشگوار یا تکلیف دہ صورت حال سے گزر رہا ہو یا گزرا ہو، تو گلے لگانے سے اس کی تکلیف میں کمی آتی ہے اور اسے ایسا لگتا ہے کہ اس کا دکھ بانٹ لیا گیا ہے۔

تحقیق کی تفصیل
20 جوڑوں پر کی گئی تحقیق میں پریشانی سے دوچار خواتین اور مردوں کے دماغ کے خلیوں کا جائزہ لیا گیا اور نوٹ کیا گیا کہ جب کوئی خاتون یا مرد پریشانی کی کیفیت میں اپنے شریک حیات کا ہاتھ پکڑتا ہے یا گلے لگاتا ہے تو اس سے دونوں کو سکون ملتا ہے۔

بیماریوں سے بچاؤ
400 افراد پر کی گئی تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ گلے ملنے سے بیمار ہونے کے امکانات میں کمی آتی ہے۔

دل کے لیے مفید
200 افراد پر کی گئی تحقیق کے بعد ماہرین نے گلے لگنے کو دل کے لیے بھی مفید قرار دیا ہے۔ گروپ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ اس میں شامل افراد نے ایک دوسرے کا ہاتھ 10 منٹ تک تھامے رکھا اور 20 سکینڈ کے لیے ایک دوسرے کو گلے لگایا۔

خوشی کے ہارمونز
انسانی جسم میں آکسیٹوسن کیمیکل بھی پایا جاتا ہے جسے’کڈل ہارمون‘ بھی کہا جاتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جب ہم کسی کو گلے لگاتے ہیں، چھوتے ہیں یا قریب بیٹھتے ہیں تو اس کی سطح بڑھ جاتی ہے جس کا مطلب ہے کہ جسم میں خوشی پیدا ہوئی اور تناؤ کم ہوا ہے۔

خوف سے نجات
ماہرین اس نتیجے پر بھی پہنچے ہیں کہ چھونے سے خوداعتمادی بڑھتی اور اضطراب کم ہوتا ہے جبکہ اسی کی بدولت ان لوگوں کے زندگی کی طرف آنے کا امکان بڑھتا ہے جو کسی وجہ سے مایوس، الگ تھلگ ہیں یا پھر موت سے خوفزدہ ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ دن میں کم از کم چار بار گلے ملنے کی ضرورت ہے، تاہم یہ تعداد آٹھ یا 12 تک بھی بڑھائی جا سکتی ہے کیونکہ یہ ایک مثبت چیز ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں